114 میں سے سورت 70 · مکی
سورہ المعارج (بلندی کے راستے)
سُورَةُ المَعَارِجِ
معانی کا ترجمہ: Muhammad Junagarhi، QuranEnc.com، ورژن 1.1.3۔ ترجمہ قرآن کے معانی بیان کرتا ہے۔ قرآن بذاتِ خود عربی متن ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1
سَأَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍۢ وَاقِعٍۢ
ایک سوال کرنے والے[1] نے اس عذاب کا سوال کیا جو واضح ہونے واﻻ ہے.
حواشی
[1] کہتے ہیں نضر بن حارث تھا یا ابو جہل تھا جس نے کہا تھا «اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ» الآية (الأنفال: 32) چنانچہ یہ شخص جنگ بدر میں مارا گیا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ہیں۔ جنہوں نے اپنی قوم کے لئے بد دعا کی تھی اور اس کے نتیجے میں اہل مکہ پر قحط سالی مسلط کی گئی تھی۔
لنک
70:1
2
3
مِّنَ ٱللَّهِ ذِى ٱلْمَعَارِجِ
اس اللہ کی طرف سے جو سیڑھیوں واﻻ ہے.[1]
حواشی
[1] یا درجات والا، بلندیوں والا ہے، جس کی طرف فرشتے چڑھتے ہیں۔
لنک
70:3
4
تَعْرُجُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ إِلَيْهِ فِى يَوْمٍۢ كَانَ مِقْدَارُهُۥ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍۢ
جس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں[1] ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے.
حواشی
[1] روح سے مراد حضرت جبرائیل (عليه السلام) ہیں، ان کی عظمت شان کے پیش نظر ان کا الگ خصوصی ذکر کیا گیا ہے ورنہ فرشتوں میں وہ بھی شامل ہیں۔ یا روح سے مراد انسانی روحیں ہیں جو مرنے کے بعد آسمان پر لے جاتی ہیں جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔
لنک
70:4
5
6
إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُۥ بَعِيدًۭا
بیشک یہ اس (عذاب) کو دور سمجھ رہے ہیں.[1]
حواشی
[1] اس یوم کی تعریف میں بہت اختلاف ہے جیسا کہ الم سجدہ کے آغاز میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ یہاں امام ابن کثیر نے چار اقوال نقل فرمائےہیں۔ پہلا قول ہے کہ اس سے وہ مسافت مراد ہے جو عرش عظیم سے اسفل سافلین (زمین کے ساتویں طبقے) تک ہے۔ یہ مسافت 50 ہزار سال میں طے ہونے والی ہے۔ دوسرا قول ہے کہ یہ دنیا کی کل مدت ہے۔ ابتدائے آفرینش سے وقوع قیامت تک، اس میں سے کتنی مدت گزر گئی اور کتنی باقی ہے، اسے صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تیسرا قول ہے کہ یہ دنیا و آخرت کے درمیان فاصلہ ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ یہ قیامت کے دن کی مقدار ہے۔ یعنی کافروں پر یہ یوم حساب پچاس ہزار سال کی طرح بھاری ہوگا۔ لیکن مومن کے لئے دنیا میں ایک فرض نماز پڑھنے سے بھی مختصر ہوگا۔ (مسند احمد، 3/75) امام ابن کثیر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے کیوں کہ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے کو قیامت والے دن جو عذاب دیا جائے گا اس کی تفصیل بیان فرماتے ہوئے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: «حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِى يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ»۔ (صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب اثم مانع الزکوٰۃ)، ”یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، ایسے دن میں، جس کی مدت تمہاری گنتی کے مطابق پچاس ہزار سال ہوگی“۔ اس تفسیر کی رو سے فی یوم کا تعلق عذاب سے ہوگا، یعنی وہ واقع ہونے والا عذاب قیامت والے دن ہوگا جو کافروں پر پچاس ہزار سال کی طرح بھاری ہوگا۔
لنک
70:6
7
وَنَرَىٰهُ قَرِيبًۭا
اور ہم اسے قریب ہی دیکھتے ہیں.[1]
حواشی
[1] دور سے مراد ناممکن اور قریب سے اس کا یقینی واقع ہونا ہے۔ یعنی کافر قیامت کو ناممکن سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ ضرور آکر رہے گیاس لئے کہ کل ما ھوا آت فھوا قریب"ہر آبت واکئ چیز قریب ہے۔
لنک
70:7
8
9
وَتَكُونُ ٱلْجِبَالُ كَٱلْعِهْنِ
اور پہاڑ مثل رنگین اون کے ہو جائیں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی دھنی ہوئی روئی کی طرح، جیسے سورہ القارعۃ میں ہے۔(كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ)
لنک
70:9
10
11
يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ ٱلْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِى مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍۭ بِبَنِيهِ
(حاﻻنکہ) ایک دوسرے کو دکھا دیئے جائیں گے[1] ، گناهگار اس دن کے عذاب کے بدلے فدیے میں اپنے بیٹوں کو.
حواشی
[1] لیکن سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی، اس لئے تعارف اور شناخت کے باوجود ایک دوسرے کو نہیں پوچھیں گے۔
لنک
70:11
12
13
14
وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا ثُمَّ يُنجِيهِ
اور روئے زمین کے سب لوگوں کو دینا چاہے گا تاکہ یہ اسے نجات دﻻ دے.[1]
حواشی
[1] یعنی اولاد، بیوی، بھائی اور خاندان یہ ساری چیزیں انسان کو نہایت عزیز ہوتی ہیں، لیکن قیامت والے دن مجرم چاہے گا کہ اس سے فدیے میں یہ عزیز چیزیں قبول کر لی جائیں اور اسے چھوڑ دیا جائے۔فصيلةٌ ،خاندان کو کہتے ہیں، کیوں کہ وہ قبیلے سے جدا ہوتا ہے۔
لنک
70:14
15
كَلَّآ ۖ إِنَّهَا لَظَىٰ
(مگر) ہرگز یہ نہ ہوگا، یقیناً وه شعلہ والی (آگ) ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی وہ جہنم، یہ اس کی شدت حرارت کا بیان ہے۔
لنک
70:15
16
نَزَّاعَةًۭ لِّلشَّوَىٰ
جو منھ اور سر کی کھال کھینچ ﻻنے والی ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی گوشت اور کھال کو جلا کر رکھ دے گی۔ انسان صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا۔
لنک
70:16
17
تَدْعُوا۟ مَنْ أَدْبَرَ وَتَوَلَّىٰ
وه ہر اس شخص کو پکارے گی جو پیچھے ہٹتا اور منھ موڑتا ہے.
لنک
70:17
18
وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰٓ
اور جمع کرکے سنبھال رکھتا ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی دنیا میں حق سے پیٹھ پھیرتا اور منہ موڑتا تھا اور مال جمع کرکے خزانوں میں سنبھال سنبھال کر رکھتا تھا، اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا تھا نہ اس میں سے زکوۃ نکالتا تھا۔ اللہ تعالٰی جہنم کو قوت گویائی عطا فرمائے گا اور جہنم بزبان قال خود ایسے لوگوں کو پکارے گی، بعض کہتے ہیں، پکارنے والے فرشتے ہی ہونگے اسے منسوب جہنم کی طرف کر دیا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کوئی نہیں پکارے گا، یہ صرف تمثیل کے طور پر ایسا کہا گیا ہے۔ مطلب ہے کہ مذکورہ افراد کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔
لنک
70:18
19
۞ إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ خُلِقَ هَلُوعًا
بیشک انسان بڑے کچے دل واﻻ بنایا گیا ہے.[1]
حواشی
[1] سخت حریص اور بہت جزع فزع کرنے والے کو ھلوع کہا جاتا ہے۔ جس کو ترجمے میں انسان کچے دل والا سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ ایسا شخص ہی بخیل و حریص اور زیادہ گریہ جاری کرنے والا ہوتا ہے۔آگےاس کی صفت بیان کی گئی ہے۔
لنک
70:19
20
21
22
23
ٱلَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَآئِمُونَ
جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں.[1]
حواشی
[1] مراد ہیں مومن کامل اور اہل توحید، ان کے اندر مذکورہ اخلاقی کمزوریاں نہیں ہوتیں بلکہ اس کے برعکس وہ صفات محمودہ کے پیکر ہوتے ہیں۔ ہمیشہ نماز پڑھنے کا مطلب ہے کہ نماز میں کوتاہی نہیں کرتے ہر نماز اپنے وقت پر نہایت پابندی اور التزام سے پڑھ لیتے ہیں۔ کوئی مشغولیت انہیں نماز سے نہیں روکتی اور دنیا کا کوئی فائدہ انہیں نماز سے غافل نہیں کرتا۔
لنک
70:23
24
وَٱلَّذِينَ فِىٓ أَمْوَٰلِهِمْ حَقٌّۭ مَّعْلُومٌۭ
اور جن کے مالوں میں مقرره حصہ ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی زکوۃ مفروضۃ، بعض کے نزدیک یہ عام ہے، صدقات واجبہ اور نافلہ دونوں اس میں شامل ہیں۔
لنک
70:24
25
لِّلسَّآئِلِ وَٱلْمَحْرُومِ
مانگنے والوں کا بھی اور سوال سے بچنے والوں کا بھی.[1]
حواشی
[1] محروم میں وہ شخص بھی داخل ہے جو رزق سے ہی محروم ہے وہ بھی جو کسی آفت سماوی وارضی کی زد میں آکر اپنی پونجی سے محروم ہوگیا اور وہ بھی جو ضرورت مند ہونے کے باوجود اپنی صفت تعفف کی وجہ سے لوگوں کی عطا اور صدقات سے محروم رہتا ہے۔
لنک
70:25
26
وَٱلَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ
اور جو انصاف کے دن پر یقین رکھتے ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی وہ اس کا انکار کرتے ہیں نہ اس میں شک وشبہ کا اظہار۔
لنک
70:26
27
وَٱلَّذِينَ هُم مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ
اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی اطاعت اور اعمال صالحہ کے باوجود اللہ کی عظمت وجلالت کے پیش نظر اس کی گرفت سے لرزاں وترساں رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ جب تک اللہ کی رحمت ہمیں اپنے دامن میں نہیں ڈھانک لے گی ہمارے یہ اعمال نجات کے لیے کافی نہیں ہوں گے جیسا کہ اس مفہوم کی حدیث پہلے گزر چکی ہے۔
لنک
70:27
28
إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍۢ
بیشک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونے کی چیز نہیں.[1]
حواشی
[1] یہ سابقہ مضمون ہی کی تاکید ہے کہ اللہ کے عذاب سے کسی کو بھی بےخوف نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر وقت اس سے ڈرتے رہنا اور اس سے بچاؤ کی ممکنہ تدابیر اختیار کرتے رہنا چاہیے۔
لنک
70:28
29
وَٱلَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَـٰفِظُونَ
اور جو لوگ اپنی شرم گاہوں کی (حرام سے) حفاﻇت کرتے ہیں.
لنک
70:29
30
إِلَّا عَلَىٰٓ أَزْوَٰجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ
ہاں ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جن کے وه مالک ہیں انہیں کوئی ملامت نہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی انسان کے جنسی تسکین کے لئے اللہ نے دو جائز ذرائع رکھے ہیں ایک بیوی اور دوسری (لونڈی) بہرحال اہل ایمان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ جنسی خواہش کی تکمیل و تسکین کے لئے ناجائز ذریعہ اختیار نہیں کرتے۔
لنک
70:30
31
فَمَنِ ٱبْتَغَىٰ وَرَآءَ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْعَادُونَ
اب جو کوئی اس کے علاوه (راه) ڈھونڈے گا توایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہوں گے.
لنک
70:31
32
وَٱلَّذِينَ هُمْ لِأَمَـٰنَـٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَٰعُونَ
اور جو اپنی امانتوں کا اور اپنے قول و قرار کا پاس رکھتے ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی ان کے پاس جو لوگوں کی امانتیں ہیں اس میں وہ خیانت نہیں کرتے اور لوگوں سے جو عہد کرتے ہیں انہیں توڑتے نہیں بلکہ ان کی پاسداری کرتے ہیں۔
لنک
70:32
33
وَٱلَّذِينَ هُم بِشَهَـٰدَٰتِهِمْ قَآئِمُونَ
اور جو اپنی گواہیوں پر سیدھے اور قائم رہتے ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی اسے صحیح صحیح ادا کرتے ہیں چاہے اس کی زد میں ان کے قریبی عزیز ہی آجائیں علاوہ ازیں اسے چھپاتے بھی نہیں، نہ اس میں تبدیلی ہی کرتے ہیں۔
لنک
70:33
34
35
36
فَمَالِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ
پس کافروں کو کیاہو گیا ہے کہ وه تیری طرف دوڑتے آتے ہیں.
لنک
70:36
37
عَنِ ٱلْيَمِينِ وَعَنِ ٱلشِّمَالِ عِزِينَ
دائیں اور بائیں سے گروه کے گروه..[1]
حواشی
[1] یہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کے زمانے کے کفار کا ذکر ہے کہ وہ آپ کی مجلس میں دوڑتے دوڑتے آتے، لیکن آپ کی باتیں سن کر عمل کرنے کی بجائے ان کا مذاق اڑاتے اور ٹولیوں میں بٹ جاتے۔ اور دعویٰ یہ کرتے کہ اگر مسلمان جنت میں گئے تو ہم ان سے پہلے جنت میں جائیں گے۔ اللہ نے اگلی آیت میں ان کے اس زعم باطل کی تردید فرمائی۔
لنک
70:37
38
أَيَطْمَعُ كُلُّ ٱمْرِئٍۢ مِّنْهُمْ أَن يُدْخَلَ جَنَّةَ نَعِيمٍۢ
کیا ان میں سے ہر ایک کی توقع یہ ہے کہ وه نعمتوں والی جنت میں داخل کیا جائے گا؟
لنک
70:38
39
كَلَّآ ۖ إِنَّا خَلَقْنَـٰهُم مِّمَّا يَعْلَمُونَ
(ایسا) ہرگز نہ ہوگا[1] ۔ ہم نے انہیں اس (چیز) سے پیدا کیا ہے جسے وه جانتے ہیں.[2]
حواشی
[1] یعنی یہ کس طرح ممکن ہے کہ مومن اور کافر دونوں جنت میں جائیں؟ رسول کو ماننے والے اور اس کی تکذیب کرنے والے دونوں کو اخروی نعمتیں ملیں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ [2] یعنی ماءٍ مَّهِين (حقیر قطرے) سے۔ جب یہ بات ہے تو کیا تکبر اس انسان کو زیب دیتا ہے؟ جس تکبر کی وجہ سے ہی یہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب بھی کرتا ہے۔
لنک
70:39
40
فَلَآ أُقْسِمُ بِرَبِّ ٱلْمَشَـٰرِقِ وَٱلْمَغَـٰرِبِ إِنَّا لَقَـٰدِرُونَ
پس مجھے قسم ہے مشرقوں اور مغربوں[1] کے رب کی (کہ) ہم یقیناً قادر ہیں.
حواشی
[1] ہر روز سورج ایک الگ جگہ سے نکلتا اور الگ مغرب میں غروب ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے مشرق بھی بہت ہیں اور مغرب بھی اتنے ہی۔ مزید تفصیل کے لئے سورۂ صافات، 5 دیکھئے۔
لنک
70:40
41
عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ خَيْرًۭا مِّنْهُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ
اس پر کہ ان کے عوض ان سے اچھے لوگ لے آئیں[1] اور ہم عاجز نہیں ہیں.[2]
حواشی
[1] یعنی ان کو ختم کرکے ایک نئی مخلوق آباد کر دینے پر ہم پوری طرح قادر ہیں۔ [2] جب ایسا ہے تو کیا ہم قیامت والے دن ان کو دوبارہ نہیں اٹھا سکیں گے۔
لنک
70:41
42
فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا۟ وَيَلْعَبُوا۟ حَتَّىٰ يُلَـٰقُوا۟ يَوْمَهُمُ ٱلَّذِى يُوعَدُونَ
پس تو انہیں جھگڑتا کھیلتا چھوڑ دے[1] یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے جاملیں جس کا ان سے وعده کیا جاتا ہے.
حواشی
[1] یعنی فضول اور لایعنی بحثوں میں پھنسے اور اپنی دنیا میں مگن رہیں تاہم آپ اپنی تبلیغ کا کام جاری رکھیں ان کا رویہ آپ کو اپنے منصب سے غافل یا بد دل نہ کر دے۔
لنک
70:42
43
يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ ٱلْأَجْدَاثِ سِرَاعًۭا كَأَنَّهُمْ إِلَىٰ نُصُبٍۢ يُوفِضُونَ
جس دن یہ قبروں سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے، گویا کہ وه کسی جگہ کی طرف تیز تیز جا رہے ہیں.[1]
حواشی
[1] اجداث جمع ہے ۔جدث کے معنی ہیں قبر۔ نصب تھانے جہاں بتوں کے نام پر جانور ذبح کیے جاتے ہیں اور بتوں کے معنی میں بھی استعمال ہے۔ بتوں کے پجاری جب سورج طلوع ہوتا تھا تو نہایت تیزی سے اپنے بتوں کی طرف دوڑتے کہ کون پہلے اسے بوسہ دیتا ہے۔ اسی طرح قیامت والے دن اپنی قبروں سے برق رفتاری سے نکلیں گے۔یوفضون یسرعون کے معنی میں ہے۔
لنک
70:43
44
خَـٰشِعَةً أَبْصَـٰرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌۭ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمُ ٱلَّذِى كَانُوا۟ يُوعَدُونَ
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی[1] ، ان پر ذلت چھا رہی ہوگی[2]، یہ ہے وه دن جس کا ان سے وعده کیا جاتا تھا.[3]
حواشی
[1] جس طرح مجرموں کی آنکھیں جھکی ہوتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے کرتوتوں کا علم ہوتا ہے۔ [2] یعنی سخت ذلت انہیں اپنی لپیٹ میں لے رہی ہوگی اور ان کے چہرے مارے خوف کے سیاہ ہوں گے۔ [3] یعنی رسولوں کی زبانی اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے۔
لنک
70:44