نماز کی رہنمائی · نئے اور واپس آنے والوں کے لیے
نماز کا طریقہ، قدم بہ قدم
دو رکعت نماز میں جو کچھ پڑھا اور کیا جاتا ہے، پہلی تکبیر سے سلام تک۔ ہر قدم کے ساتھ عربی متن، رومن تلفظ، اردو ترجمہ اور حوالہ ہے۔ یہاں حنفی طریقہ پہلے بیان کیا گیا ہے کیونکہ پاکستان اور ہندوستان کے اکثر مسلمان اسی پر عمل کرتے ہیں۔
وضو کریں، قبلہ رخ ہوں اور نیت کریں۔ اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھیں، ثنا، سورۃ الفاتحہ اور کوئی سورت پڑھیں، رکوع کریں، کھڑے ہوں، دو سجدے کریں، پھر اگلی رکعت کے لیے کھڑے ہوں۔ آخری رکعت کے بعد بیٹھ کر التحیات، درودِ ابراہیمی اور دعا پڑھیں، اور دائیں بائیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ کر نماز ختم کریں۔ نیچے فجر جیسی دو رکعت نماز کا ہر قدم دیا گیا ہے۔
نماز سے پہلے
- وقت ہو چکا ہو۔ ہر نماز کا اپنا وقت ہے (سورۃ النساء 4:103)۔ اپنے شہر کے نماز کے اوقات دیکھیں۔
- آپ باوضو ہوں۔ “اللہ تم میں سے کسی کی نماز قبول نہیں کرتا جب اس کا وضو ٹوٹ جائے، یہاں تک کہ وہ وضو کر لے” (صحیح بخاری 135، صحیح مسلم 225)۔ وضو کا طریقہ۔
- جسم، کپڑے اور جگہ پاک ہوں، اور ستر ڈھکا ہوا ہو۔
- قبلہ رخ ہوں، یعنی مکہ مکرمہ میں کعبہ کی طرف (سورۃ البقرہ 2:144)۔ قبلہ معلوم کریں۔
دو رکعت نماز کا طریقہ، قدم بہ قدم
رکعت قیام، رکوع اور دو سجدوں کے ایک چکر کو کہتے ہیں۔ فجر کے فرض دو رکعت ہیں، اس لیے نیچے دیے گئے قدم فجر کی پوری نماز ہیں۔ لمبی نمازوں میں یہی چکر دہرایا جاتا ہے۔
نیت کریں
دل میں ارادہ کریں کہ کون سی نماز پڑھ رہے ہیں، مثلاً فجر کی دو رکعت فرض۔ نیت دل کا ارادہ ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: “اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے” (صحیح بخاری 1، صحیح مسلم 1907)۔ بہت سے حنفی علما دل کی نیت کے ساتھ زبان سے بھی کہہ لینے کو بہتر کہتے ہیں تاکہ دھیان رہے، مگر یہ لازم نہیں۔
تکبیرِ تحریمہ کہیں
مرد دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائیں کہ انگوٹھے کانوں کی لو کے برابر ہوں؛ عورتیں کندھوں تک اٹھائیں۔ پھر کہیں:
اللَّهُ أَكْبَرُ
Allahu akbar
اللہ سب سے بڑا ہے۔
تکبیر سے نماز شروع ہوتی ہے · سنن ابی داؤد 61، جامع ترمذی 3
اب سے نظر سجدے کی جگہ پر رکھیں اور سکون سے کھڑے رہیں۔
ہاتھ باندھ کر ثنا پڑھیں
حنفی طریقے میں مرد دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر ناف کے نیچے باندھتے ہیں، اور عورتیں سینے پر۔ پھر آہستہ سے ثنا پڑھیں:
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ
Subhanakallahumma wa bihamdik, wa tabarakasmuk, wa ta'ala jadduk, wa la ilaha ghayruk
اے اللہ! تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے، تیرا نام بڑی برکت والا ہے، تیری شان بلند ہے، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
سنن ابی داؤد 775، جامع ترمذی 243
تعوذ، تسمیہ اور سورۃ الفاتحہ
آہستہ سے پڑھیں:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
A'udhu billahi minash-shaytanir-rajim
میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
سورۃ النحل 16:98
پھر سورۃ الفاتحہ پڑھیں۔ یہ ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے: “جس نے سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں” (صحیح بخاری 756، صحیح مسلم 394)۔ جماعت میں حنفی مقتدی خاموش رہ کر امام کی قراءت سنتا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Bismillahir-rahmanir-rahim
اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے۔
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
Al-hamdu lillahi rabbil-'alamin
سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے،
ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Ar-rahmanir-rahim
بڑا مہربان، نہایت رحم والا،
مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ
Maliki yawmid-din
بدلے کے دن کا مالک۔
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
Iyyaka na'budu wa iyyaka nasta'in
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔
ٱهْدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ
Ihdinas-siratal-mustaqim
ہمیں سیدھا راستہ دکھا،
صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ ٱلْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ
Siratal-ladhina an'amta 'alayhim, ghayril-maghdubi 'alayhim wa lad-dallin
ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا، نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہوں کا۔
سورۃ الفاتحہ 1:1-7 · آڈیو کے ساتھ پڑھیں۔ آخر میں آہستہ سے آمین کہیں۔
کوئی سورت ملائیں
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد کوئی سورت یا کم از کم تین چھوٹی آیات پڑھیں۔ شروع کرنے کے لیے سورۃ الاخلاص آسان ہے:
قُلْ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ (1) ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدٌۢ (4)
Qul huwallahu ahad. Allahus-samad. Lam yalid wa lam yulad. Wa lam yakun lahu kufuwan ahad.
کہو: وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے (سب اسی کے محتاج ہیں)۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔
سورۃ الاخلاص 112:1-4 · سورۃ الاخلاص
رکوع کریں
اللہ اکبر کہہ کر جھکیں، کمر اور سر برابر ہوں اور ہاتھوں سے گھٹنے پکڑیں۔ کم از کم تین بار کہیں:
سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ
Subhana rabbiyal-'azim
پاک ہے میرا رب جو عظمت والا ہے۔
صحیح مسلم 772 (حذیفہ رضی اللہ عنہ)
رکوع سے اٹھیں (قومہ)
سیدھے کھڑے ہوتے ہوئے کہیں:
سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ
Sami'allahu liman hamidah
اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔
پھر سیدھے کھڑے ہو کر:
رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ
Rabbana wa lakal-hamd
اے ہمارے رب! اور سب تعریف تیرے ہی لیے ہے۔
صحیح بخاری 789
حنفی طریقے میں جماعت کے وقت امام صرف سمع اللہ لمن حمدہ اور مقتدی صرف ربنا ولک الحمد کہتا ہے؛ اکیلا نمازی دونوں کہتا ہے۔
سجدہ کریں
اللہ اکبر کہہ کر سجدے میں جائیں۔ سات اعضا زمین پر ہوں: پیشانی ناک سمیت، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیاں (صحیح بخاری 812، صحیح مسلم 490)۔ کم از کم تین بار کہیں:
سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى
Subhana rabbiyal-a'la
پاک ہے میرا رب جو سب سے بلند ہے۔
صحیح مسلم 772 (حذیفہ رضی اللہ عنہ)
سجدے میں بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے (صحیح مسلم 482)۔ مرد بازو پہلوؤں سے الگ رکھیں؛ عورتیں سمٹ کر سجدہ کریں۔
دو سجدوں کے درمیان بیٹھیں (جلسہ)
اللہ اکبر کہہ کر سکون سے سیدھے بیٹھیں۔ اس جلسے میں یہ دعا بھی ثابت ہے:
رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي
Rabbighfir li, rabbighfir li
اے میرے رب! مجھے بخش دے، اے میرے رب! مجھے بخش دے۔
سنن ابن ماجہ 897، سنن ابی داؤد 874
دوسرا سجدہ
اللہ اکبر کہہ کر پہلے کی طرح دوسرا سجدہ کریں اور تین بار سبحان ربی الاعلیٰ کہیں۔ اس سے پہلی رکعت مکمل ہو گئی۔
دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوں
اللہ اکبر کہہ کر کھڑے ہو جائیں۔ قدم 4 سے 10 دوبارہ کریں: فاتحہ، سورت، رکوع، قومہ، دو سجدے اور جلسہ۔ ثنا دوبارہ نہیں پڑھی جاتی۔
قعدہ میں التحیات پڑھیں
دوسری رکعت کے دوسرے سجدے کے بعد بیٹھ جائیں (حنفی طریقے میں مرد بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھتے ہیں اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے ہیں) اور التحیات پڑھیں۔ اشہد ان لا الٰہ پر شہادت کی انگلی اٹھائیں اور الا اللہ پر رکھ دیں (انگلی سے اشارہ: صحیح مسلم 580)۔
التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
At-tahiyyatu lillahi was-salawatu wat-tayyibat. As-salamu 'alayka ayyuhan-nabiyyu wa rahmatullahi wa barakatuh. As-salamu 'alayna wa 'ala 'ibadillahis-salihin. Ashhadu an la ilaha illallah, wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluh.
تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔
تشہد ابن مسعود رضی اللہ عنہ · صحیح بخاری 831، صحیح مسلم 402
درودِ ابراہیمی پڑھیں
آخری قعدے میں التحیات کے بعد نبی ﷺ پر درود بھیجیں:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
Allahumma salli 'ala Muhammadin wa 'ala ali Muhammad, kama sallayta 'ala Ibrahima wa 'ala ali Ibrahim, innaka hamidun majid. Allahumma barik 'ala Muhammadin wa 'ala ali Muhammad, kama barakta 'ala Ibrahima wa 'ala ali Ibrahim, innaka hamidun majid.
اے اللہ! محمد اور آلِ محمد پر رحمت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف والا، بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد اور آلِ محمد پر برکت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف والا، بزرگی والا ہے۔
درودِ ابراہیمی · صحیح بخاری 3370 (کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ)
دعا مانگیں
سلام سے پہلے دعا کریں۔ پاکستان اور ہندوستان میں یہ دعا (دعائے ماثورہ) عام طور پر سکھائی جاتی ہے:
اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
Allahumma inni zalamtu nafsi zulman kathira, wa la yaghfirudh-dhunuba illa ant, faghfir li maghfiratan min 'indik, warhamni, innaka antal-ghafurur-rahim.
اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا، اور تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرتا، پس اپنی طرف سے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما، بے شک تو ہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
نبی ﷺ نے یہ دعا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز میں پڑھنے کے لیے سکھائی · صحیح بخاری 834، صحیح مسلم 2705
یا قرآن کی یہ دعا:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
Rabbana atina fid-dunya hasanah, wa fil-akhirati hasanah, wa qina 'adhaban-nar
اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
سورۃ البقرہ 2:201 · آیت دیکھیں
سلام پھیریں
پہلے دائیں طرف منہ پھیر کر سلام کہیں، پھر بائیں طرف (صحیح مسلم 582)۔ آپ کی نماز مکمل ہو گئی۔
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
As-salamu 'alaykum wa rahmatullah
تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت۔
ہاتھ باندھنا: شافعی اور حنبلی سینے پر یا اس سے ذرا نیچے باندھتے ہیں، اور بہت سے مالکی ہاتھ چھوڑ کر پڑھتے ہیں۔ رفع یدین: حنفی صرف پہلی تکبیر پر ہاتھ اٹھاتے ہیں، جبکہ شافعی اور حنبلی رکوع سے پہلے اور بعد بھی اٹھاتے ہیں (صحیح بخاری 735)۔ آمین: شافعی اور حنبلی جہری نماز میں بلند آواز سے کہتے ہیں۔ ان میں سے کسی فرق سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
تین اور چار رکعت والی نمازیں
مغرب (3) اور ظہر، عصر اور عشاء (4) میں پہلی دو رکعتیں اوپر کے طریقے سے پڑھیں۔ دوسری رکعت کے قعدے میں صرف التحیات پڑھیں، درود اور سلام نہیں، پھر اللہ اکبر کہہ کر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو جائیں۔
فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورۃ الفاتحہ پڑھیں، کوئی سورت نہ ملائیں۔ آخری رکعت کے بعد بیٹھ کر التحیات، درود اور دعا پڑھیں اور سلام پھیریں۔
فجر، اور مغرب و عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں امام بلند آواز سے قراءت کرتا ہے؛ ظہر اور عصر میں آہستہ۔
ہر نماز کی رکعتیں
پانچوں نمازوں میں کل 17 فرض رکعتیں ہیں۔ سنتیں وہ ہیں جن کی نبی ﷺ پابندی فرماتے تھے: “جو دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جاتا ہے” (صحیح مسلم 728؛ بارہ رکعتوں کی تفصیل جامع ترمذی 415 میں ہے)۔ نیچے کا نقشہ حنفی طریقے کے مطابق ہے؛ قوسین میں نفل اختیاری ہیں۔
| نماز | فرض سے پہلے سنت | فرض | فرض کے بعد | قراءت |
|---|---|---|---|---|
| فجر | 2 سنتِ مؤکدہ | 2 | — | بلند آواز سے |
| ظہر | 4 سنتِ مؤکدہ | 4 | 2 سنتِ مؤکدہ (2 نفل) | آہستہ |
| عصر | 4 سنتِ غیر مؤکدہ | 4 | — | آہستہ |
| مغرب | — | 3 | 2 سنتِ مؤکدہ (2 نفل) | پہلی دو بلند آواز سے |
| عشاء | 4 سنتِ غیر مؤکدہ | 4 | 2 سنتِ مؤکدہ، 3 وتر (واجب)، (نفل) | پہلی دو بلند آواز سے |
ظہر سے پہلے: شافعی اور حنبلی دو رکعت کو مؤکدہ کہتے ہیں (صحیح بخاری 1180) اور چار کو مستحب۔ وتر: حنفی مسلک میں واجب اور تین رکعت؛ باقی تین مسالک میں سنتِ مؤکدہ، ایک یا زیادہ رکعت۔
وتر کی نماز
وتر عشاء کے بعد اور فجر سے پہلے پڑھی جاتی ہے؛ اسے رات کی آخری نماز بنائیں (صحیح بخاری 998)۔ حنفی طریقہ:
- دو رکعت عام طریقے سے پڑھیں اور دوسری رکعت کے بعد قعدے میں صرف التحیات پڑھ کر کھڑے ہو جائیں۔
- تیسری رکعت میں فاتحہ اور کوئی سورت پڑھیں۔
- پھر رکوع سے پہلے اللہ اکبر کہتے ہوئے ہاتھ کانوں تک اٹھائیں، دوبارہ باندھیں اور دعائے قنوت پڑھیں۔
- پھر رکوع، دو سجدے، التحیات، درود اور دعا پڑھ کر سلام پھیریں۔
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ، وَنَشْكُرُكَ وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ، اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، وَنَرْجُو رَحْمَتَكَ وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ
Allahumma inna nasta'inuka wa nastaghfiruk, wa nu'minu bika wa natawakkalu 'alayk, wa nuthni 'alaykal-khayr, wa nashkuruka wa la nakfuruk, wa nakhla'u wa natruku man yafjuruk. Allahumma iyyaka na'budu, wa laka nusalli wa nasjudu, wa ilayka nas'a wa nahfidu, wa narju rahmataka wa nakhsha 'adhabak, inna 'adhabaka bil-kuffari mulhiq.
اے اللہ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے بخشش چاہتے ہیں، تجھ پر ایمان رکھتے ہیں اور تجھ پر بھروسا کرتے ہیں، تیری اچھی تعریف کرتے ہیں، تیرا شکر ادا کرتے ہیں اور تیری ناشکری نہیں کرتے، اور جو تیری نافرمانی کرے اسے چھوڑتے اور اس سے الگ ہوتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، تیرے ہی لیے نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں، تیری ہی طرف دوڑتے اور کوشش کرتے ہیں، تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں، بے شک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا ہے۔
دعائے قنوت جو اکثر حنفی پڑھتے ہیں · حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے، السنن الکبریٰ للبیہقی
جسے دعائے قنوت یاد نہ ہو وہ یاد ہونے تک رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً... پڑھ سکتا ہے۔
شافعی اور حنبلی عام طور پر دو رکعت پر سلام پھیر کر ایک رکعت الگ پڑھتے ہیں، اور قنوت رکوع کے بعد پڑھتے ہیں۔ انگریزی میں تفصیل: Witr۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا نیت زبان سے کرنا ضروری ہے؟
نہیں۔ نیت دل کا ارادہ ہے اور نماز اسی سے درست ہو جاتی ہے (صحیح بخاری 1)۔ بہت سے حنفی علما دل کی نیت کے ساتھ زبان سے کہہ لینے کو دھیان کے لیے بہتر سمجھتے ہیں، جبکہ بعض علما اسے ضروری نہیں سمجھتے۔ دونوں صورتوں میں نماز درست ہے۔
اگر مجھے ابھی سورۃ الفاتحہ یاد نہیں تو کیا کروں؟
نماز ابھی سے شروع کریں اور ساتھ ساتھ سیکھیں۔ ایک شخص نے نبی ﷺ سے کہا کہ وہ قرآن یاد نہیں کر پاتا، تو آپ نے اسے سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا الٰہ الا اللہ، واللہ اکبر، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنا سکھایا (سنن ابی داؤد 832)۔ جتنی جلدی ہو سکے فاتحہ یاد کریں۔
کیا عورتوں کی نماز مختلف ہے؟
ارکان اور الفاظ ایک ہی ہیں۔ حنفی مسلک میں ہیئت کے چند فرق بیان ہوتے ہیں: عورت ہاتھ کندھوں تک اٹھائے، سینے پر باندھے، اور سجدے میں سمٹ کر بازو جسم سے ملا کر رکھے۔ دوسرے مسالک میں یہ فرق کم بیان ہوئے ہیں۔
نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟
جان بوجھ کر بات کرنا، کھانا پینا، آواز سے ہنسنا، سینہ قبلے سے پھیر لینا، وضو ٹوٹ جانا، یا رکوع اور سجدے جیسا کوئی رکن چھوڑ دینا۔ “اس نماز میں لوگوں کی بات چیت درست نہیں” (صحیح مسلم 537)۔
اگر رکعتوں کی گنتی بھول جاؤں تو؟
حنفی مسلک میں: اگر زندگی میں پہلی بار ایسا شک ہوا ہو تو نماز دوبارہ پڑھیں۔ اگر اکثر ہوتا ہو تو غالب گمان پر عمل کریں، اور اگر کسی طرف غالب گمان نہ ہو تو کم تعداد مان کر نماز پوری کریں اور آخر میں سجدۂ سہو کریں (سجدۂ سہو کی اصل: صحیح مسلم 571)۔
چھوٹی ہوئی نمازیں کیسے پوری کروں؟
فرض اور وتر کی قضا کی جاتی ہے، ساتھ سچی توبہ بھی۔ اگر تعداد معلوم نہ ہو تو ایمانداری سے اندازہ لگائیں: قضا نمازوں کا کیلکولیٹر اس میں مدد کرتا ہے۔
اردو میں مزید ٹولز
مزید دیکھیں
ہر نماز وقت پر
Niyat میں آپ کے شہر کے درست نماز کے اوقات اور اذان کی اطلاع، قبلہ، آڈیو اور لفظ بہ لفظ ترجمے کے ساتھ قرآن، اور دعائیں موجود ہیں۔ Salah Lock نماز ادا ہونے تک توجہ ہٹانے والی ایپس بند رکھتا ہے۔
iPhone کے لیے ڈاؤن لوڈ کریں Google Play پر حاصل کریںیہ رہنمائی عام طریقے کو حوالوں کے ساتھ بیان کرتی ہے، فتویٰ نہیں۔ اپنی خاص صورتِ حال کے لیے کسی معتبر عالم سے پوچھیں۔ English version۔