114 میں سے سورت 69 · مکی
سورہ الحاقہ (یقینی طور پر واقع ہونے والی)
سُورَةُ الحَاقَّةِ
معانی کا ترجمہ: Muhammad Junagarhi، QuranEnc.com، ورژن 1.1.3۔ ترجمہ قرآن کے معانی بیان کرتا ہے۔ قرآن بذاتِ خود عربی متن ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1
ٱلْحَآقَّةُ
ﺛابت ہونے والی.[1]
حواشی
[1] یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اس میں امر الٰہی ثابت ہوگا اور خود یہ بھی بہر صورت وقوع پذیر ہونے والی ہے، اس لئے اسے الْحَاَقَّۃُ سے تعبیر فرمایا۔
لنک
69:1
2
مَا ٱلْحَآقَّةُ
ﺛابت ہونے والی کیا ہے؟[1]
حواشی
[1] یہ لفظًا استفہام ہے لیکن اس کا مقصد قیامت کی عظمت اور شان بیان کی گئی ہے۔
لنک
69:2
3
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْحَآقَّةُ
اور تجھے کیا معلوم ہے کہ وه ﺛابت شده کیا ہے؟[1]
حواشی
[1] یعنی کس ذریعے سے تجھے اس کی پوری حقیقت سے آگاہی حاصل ہو؟مطلب اس کے علم کی نفی ہے۔گویا کہ تجھے اس کا علم نہیں، کیونکہ تو نے ابھی اسے دیکھا ہے اور نہ اس کی ہولناکیوں کا مشاہدہ کیا ہے، گویا مخلوقات کے دائرہ علم سے باہر ہے (فتح القدیر)بعض کہتے ہیں کہ قرآن میں جس کی بابت بھی صیغہ ماضی ما ادراک استعمال کیا گیا ہے، اس کے بیان کر دیا گیا ہے اور جس کو مضارع کے صیغے وما یدریک کے ذریعے سے بیان کیا گیا اس کا علم لعگوں کو نہیں دیا گیاہے(فتح القدیر وایسر التفاسیر)
لنک
69:3
4
كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَعَادٌۢ بِٱلْقَارِعَةِ
اس کھڑکا دینے والی کو ﺛمود اور عاد نے جھٹلا دیا تھا[1]
حواشی
[1] اس میں قیامت کو کھڑکا دینے والی کہا ہے، اس لئے کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے لوگوں کو بیدار کر دے گی۔
لنک
69:4
5
فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهْلِكُوا۟ بِٱلطَّاغِيَةِ
(جس کے نتیجہ میں) ﺛمود تو بے حد خوفناک (اور اونچی) آواز سے ہلاک کردیئے گئے.[1]
حواشی
[1] طاغیۃ،ایسی آواز جو حد سے تجاوز کر جا نے والی ہو،یعنی نہایت خوف ناک اور اونچی آوز سے قوم ثمود کو ہلاک کیا گیا ،جیسا کہ پہلے متعدد جگہ گزرا۔
لنک
69:5
6
وَأَمَّا عَادٌۭ فَأُهْلِكُوا۟ بِرِيحٍۢ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍۢ
اور عاد بیحد تیز وتند ہوا سے غارت کردیئے گئے.[1]
حواشی
[1] صر صر پالے والی ہوا۔عاتیۃ 'سرکش'کسی کے قابو میں نہ آنے والی، یعنی نہایت تند و تیز، پالے والی اور بےقابو ہوا کے ذریعے اسے حضرت ہود (عليه السلام) کی قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔
لنک
69:6
7
سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍۢ وَثَمَـٰنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًۭا فَتَرَى ٱلْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍۢ
جسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک (اللہ نے) مسلط رکھا[1] پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر اس طرح گر گئے جیسے کہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں.[2]
حواشی
[1] حَسمٌ کے معنی کاٹنے اور جدا جدا کرنے کے ہیں اور بعض نے حُسُومَا کے معنی پے درپے کیے ہیں۔ [2] اس سے ان کی درازی کی طرف اشارہ ہے کھوکھلے بےروح جسم کو کھوکھلے تنے سے تشبیہ دی ہے۔
لنک
69:7
8
9
وَجَآءَ فِرْعَوْنُ وَمَن قَبْلَهُۥ وَٱلْمُؤْتَفِكَـٰتُ بِٱلْخَاطِئَةِ
فرعون اور اس سے پہلے کے لوگ اور جن کی بستیاں الٹ دی گئی[1] ، انہوں نے بھی خطائیں کیں.
حواشی
[1] اس سے قوم لوط مراد ہے۔
لنک
69:9
10
فَعَصَوْا۟ رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةًۭ رَّابِيَةً
اور اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی (بالﺂخر) اللہ نے انہیں (بھی) زبردست گرفت میں لے لیا.[1]
حواشی
[1] رَابِيَة، ربا یربو سے ہے جس کے معنی زائد کے ہیں، یعنی ان کی ایسی گرفت کی جو دوسری قوموں کی گرفت سے زائد یعنی سب میں سخت تر تھی۔گویا اخذۃ رابیۃ کا مفہوم ہوا نہایت سخت گرفت۔
لنک
69:10
11
إِنَّا لَمَّا طَغَا ٱلْمَآءُ حَمَلْنَـٰكُمْ فِى ٱلْجَارِيَةِ
جب پانی میں طغیانی آگئی[1] تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا.[2]
حواشی
[1] یعنی پانی بلندی میں تجاوز کر گیا، یعنی پانی خوب چڑھ گیا۔ [2] کُم سے مخاطب عہد رسالت کے لوگ ہیں، مطلب ہے کہ تم جن آبا کی پشتوں سے ہو، ہم نے انہیں کشتی میں سوار کرکے بپھرے ہوئے پانی سے بچایا تھا۔ اَلْجَارِیَۃ سے مراد سفینہ نوح (عليه السلام) ہے۔
لنک
69:11
12
لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةًۭ وَتَعِيَهَآ أُذُنٌۭ وَٰعِيَةٌۭ
تاکہ اسے تمہارے لیے نصیحت اور یادگار بنادیں[1] ، اور (تاکہ) یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں.[2]
حواشی
[1] یعنی یہ فعل کہ کافروں کو پانی میں غرق کردیا اور مومنوں کو کشتی میں سوار کرا کے بچا لیا تمہارے لیے اس کو عبرت و نصیحت بنا دیں تاکہ تم اس سے نصیحت حاصل کرو اور اللہ کی نافرمانی سے بچو۔ [2] عنی سننے والے اسے سن کر یاد رکھیں اور وہ بھی اس سے عبرت پکڑیں۔
لنک
69:12
13
فَإِذَا نُفِخَ فِى ٱلصُّورِ نَفْخَةٌۭ وَٰحِدَةٌۭ
پس جب کہ صور میں ایک پھونک پھونکی جائے گی.[1]
حواشی
[1] یہ مکذبین کا انجام بیان کرنے کے بعد اب بتلایا جارہا ہے کہ یہ الحاقہ کس طرح واقع ہوگی اسرافیل کی ایک ہی پھونک سے یہ برپا ہو جائے گی۔
لنک
69:13
14
وَحُمِلَتِ ٱلْأَرْضُ وَٱلْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ
اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں[1] گے اور ایک ہی چوٹ میں ریزه ریزه کر دیے جائیں گے.
حواشی
[1] یعنی اپنی جگہوں سے اٹھا لیے جائیں گے اور قدرت الہی سے اپنی قرار گاہوں سے ان کو اکھیڑ لیا جائے گا۔
لنک
69:14
15
16
وَٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَهِىَ يَوْمَئِذٍۢ وَاهِيَةٌۭ
اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن بالکل بودا ہوجائے گا.[1]
حواشی
[1] یعنی اس میں کوئی قوت اور استحکام نہیں رہے گا جو چیز پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ اس میں استحکام کس طرح رہ سکتا ہے۔
لنک
69:16
17
وَٱلْمَلَكُ عَلَىٰٓ أَرْجَآئِهَا ۚ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍۢ ثَمَـٰنِيَةٌۭ
اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے[1] ، اور تیرے پروردگار کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے.[2]
حواشی
[1] یعنی آسمان تو ٹکرے ٹکرے ہو جائے گا پھر فرشتے کہاں ہونگے فرمایا کہ وہ آسمان کے کناروں پر ہوں گے اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرشتے آسمان پھٹنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم سے زمین پر آجائیں گے تو گویا فرشتے دنیا کے کنارے پرہوں گے ،یا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ آسمان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر مختلف ٹکروں میں ہوگا تو ان ٹکڑوں پر جو زمین کے کناروں میں اور بجائے خود ثابت ہوں گے۔(فتح القدیر) [2] یعنی ان مخصوص فرشتوں نے عرش الٰہی کو اپنے سروں پر اٹھایا ہوا ہو گا، یہ بھی ممکن ہے اس عرش سے مراد وہ عرش ہو جو فیصلوں کے لئے زمین پر رکھا جائے گا، جس پر اللہ تعالٰی نزول اجلال فرمائے گا (ابن کثیر)
لنک
69:17
18
يَوْمَئِذٍۢ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَىٰ مِنكُمْ خَافِيَةٌۭ
اس دن تم سب سامنے پیش کیے[1] جاؤ گے، تمہارا کوئی بھید پوشیده نہ رہے گا.
حواشی
[1] یہ پیشی اس لیے نہیں ہوگی کہ جن کو اللہ نہیں جانتا ان کو جان لے گا وہ تو سب کو ہی جانتا ہے یہ پیشی خود انسانوں پر حجت قائم کرنے کے لیے ہوگی ورنہ اللہ سے تو کسی کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
لنک
69:18
19
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ فَيَقُولُ هَآؤُمُ ٱقْرَءُوا۟ كِتَـٰبِيَهْ
سو جسے اس کا نامہٴ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وه کہنے لگے گا[1] کہ لو میرا نامہٴ اعمال پڑھو.[2]
حواشی
[1] جو اس کی سعادت، نجات اور کامیابی کی دلیل ہوگا۔ [2] یعنی وہ مارے خوشی کے ہر ایک کو کہے گا کہ لو، میرا اعمال نامہ پڑھ لو میرا اعمال نامہ تو مجھے مل گیا، اس لئے کہ اسے پتہ ہوگا کہ اس میں اس کی نیکیاں ہی نیکیاں ہوں گی، کچھ برائیاں ہونگی تو اللہ نے معاف فرما دی ہونگی۔یا ان برائیوں کو بھی حسنات میں تبدیل کیا ہوگا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ساتھ فضل و کرم کی یہ مختلف صورتیں اختیان فرمائے گا۔
لنک
69:19
20
إِنِّى ظَنَنتُ أَنِّى مُلَـٰقٍ حِسَابِيَهْ
مجھے تو کامل یقین تھا کہ مجھے اپنا حساب ملنا ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی آخرت کے حساب وکتاب پر میرا کامل یقین تھا۔
لنک
69:20
21
22
فِى جَنَّةٍ عَالِيَةٍۢ
بلند وباﻻ جنت میں.[1]
حواشی
[1] جنت میں مختلف درجات ہیں ہر درجے کے درمیان بہت فاصلہ ہے جیسے مجاہدین کے بارے میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ نے مجاہدین کے تیار کیے ہیں ان کے دو درجوں کے درمیان کا فاصلہ زمین و آسمان جتنا ہے۔ (صحيح مسلم كتاب الإمارة ، صحيح بخاري ، كتاب الجهاد)
لنک
69:22
23
قُطُوفُهَا دَانِيَةٌۭ
جس کے میوے جھکے پڑے ہوں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی بالکل قریب ہونگے کوئی لیٹے لیٹے بھی توڑنا چاہے گا تو ممکن ہوگا۔قطرف قفف کی جمع ہے ،چنیے یا توڑے ہوئے 'مراد پھل ہیں۔ مَا يُقْطَفُ مِنَ الثِّمَارِ
لنک
69:23
24
كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ هَنِيٓـًٔۢا بِمَآ أَسْلَفْتُمْ فِى ٱلْأَيَّامِ ٱلْخَالِيَةِ
(ان سے کہا جائے گا) کہ مزے سے کھاؤ، پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ زمانے میں کیے.[1]
حواشی
[1] یعنی دنیا میں اعمال صالحہ کئے، یہ جنت ان کا صلہ ہے۔
لنک
69:24
25
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُۥ بِشِمَالِهِۦ فَيَقُولُ يَـٰلَيْتَنِى لَمْ أُوتَ كِتَـٰبِيَهْ
لیکن جسے اس (کے اعمال) کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی، وه تو کہے گا کہ کاش کہ مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی.[1]
حواشی
[1] کیونکہ نامہ اعمال کا بائیں ہاتھ میں ملنا بدبختی کی علامت ہوگا۔
لنک
69:25
26
وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ
اور میں جانتا ہی نہ کہ حساب کیا ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی مجھے بتلایا ہی نہ جاتا کیونکہ سارا حساب ان کے خلاف ہوگا۔
لنک
69:26
27
يَـٰلَيْتَهَا كَانَتِ ٱلْقَاضِيَةَ
کاش! کہ موت (میرا) کام ہی تمام کر دیتی.[1]
حواشی
[1] یعنی موت ہی فیصلہ کن ہوتی اور دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا تاکہ یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔
لنک
69:27
28
29
هَلَكَ عَنِّى سُلْطَـٰنِيَهْ
میرا غلبہ بھی مجھ سے جاتا رہا.[1]
حواشی
[1] یعنی جس طرح مال میرے کام نہ آیا، جاہ و مرتبہ اور سلطنت و حکومت بھی میرے کام نہ آئی۔ آج میں اکیلا ہی سزا بھگت نے پر مجبور ہوں۔
لنک
69:29
30
31
ثُمَّ ٱلْجَحِيمَ صَلُّوهُ
پھر اسے دوزخ میں ڈال دو.[1]
حواشی
[1] اللہ ملائکہ جہنم کو حکم دے گا۔
لنک
69:31
32
ثُمَّ فِى سِلْسِلَةٍۢ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًۭا فَٱسْلُكُوهُ
پھر اسے ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر ہاتھ کی ہے جکڑ دو.[1]
حواشی
[1] یہ ذراع (ہاتھ) یہ کتنا ہوگا اس کی وضاحت ممکن نہیں تاہم اس سے اتنا معلوم ہوا کہ زنجیر کی لمبائی ستر ذراع ہوگی۔
لنک
69:32
33
إِنَّهُۥ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ ٱلْعَظِيمِ
بیشک یہ اللہ عظمت والے پرایمان نہ رکھتا تھا.[1]
حواشی
[1] یہ مذکورہ سزا کی علت یا مجرم کے جرم کا بیان ہے۔
لنک
69:33
34
وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِ
اور مسکین کے کھلانے پر رغبت نہ دﻻتا تھا.[1]
حواشی
[1] یعنی عبادت و اطاعت کے ذریعے سے اللہ کا حق ادا کرتا تھا اور نہ وہ حقوق ادا کرتا تھا جو بندوں کے بندوں پر ہیں۔ گویا اہل ایمان میں یہ جامعیت ہوتی ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔
لنک
69:34
35
36
وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍۢ
اور نہ سوائے پیﭗ کے اس کی کوئی غذا ہے.[1]
حواشی
[1] بعض کہتے ہیں کہ یہ جہنم میں کوئی درخت ہے بعض کہتے ہیں کہ زقوم ہی کو غسلین کہا گیا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ جہنمیوں کی پیپ یا ان کے جسموں سے نکلنے والا خون اور بدبودار ہوگا۔ اللہ ہمیں اس سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
لنک
69:36
37
لَّا يَأْكُلُهُۥٓ إِلَّا ٱلْخَـٰطِـُٔونَ
جسے گناه گاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا.[1]
حواشی
[1] خاطئون سے مراد اہل جہنم ہیں جو کفر و شرک کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے اس لیے کہ یہ گناہ ایسے ہیں جو خلود فی النار کا سبب ہیں۔
لنک
69:37
38
39
وَمَا لَا تُبْصِرُونَ
اور ان چیزوں کی جنہیں تم نہیں دیکھتے.[1]
حواشی
[1] یعنی اللہ کی پیدا کردہ وہ چیزیں، جو اللہ کی ذات اور اس کی قدرت و طاقت پر دلالت کرتی ہیں، جنہیں تم دیکھتے ہو یا نہیں دیکھتے، ان سب کی قسم ہے۔ آگے جواب قسم ہے۔
لنک
69:39
40
إِنَّهُۥ لَقَوْلُ رَسُولٍۢ كَرِيمٍۢ
کہ بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے.[1]
حواشی
[1] بزرگ رسول سے مراد حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) ہیں۔ اور قول سے مراد تلاوت ہے یعنی رسول کریم سے مراد ایسا قول ہے جو یہ رسول کریم (صلى الله عليه وسلم) کی طرف سے تمہیں پہنچاتا ہے۔ کیونکہ قرآن، رسول یا جبرائیل (عليه السلام) کا قول نہیں ہے، بلکہ اللہ کا قول ہے جو اس نے فرشتے کے ذریعے سے پیغمبر پر نازل فرمایا ہے، پھر پیغمبر اسے لوگوں تک پہنچاتا ہے۔
لنک
69:40
41
وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍۢ ۚ قَلِيلًۭا مَّا تُؤْمِنُونَ
یہ کسی شاعر کا قول نہیں[1] (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے.
حواشی
[1] جیسا کہ تم سمجھتے ہو اور کہتے ہو اس لیے کہ یہ اصناف شعر سے نہ اس کے مشابہ ہے پھر یہی کسی شاعر کا کلام کس طرح ہو سکتا ہے۔
لنک
69:41
42
وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍۢ ۚ قَلِيلًۭا مَّا تَذَكَّرُونَ
اور نہ کسی کاہن کا قول ہے[1] ، (افسوس) بہت کم نصیحت لے رہے ہو.[2]
حواشی
[1] جیسا کہ تم بعض دفعہ تم یہ دعوی کرتے ہو حالانکہ کہانت بھی ایک شئے ددیگر ہے۔ [2] قلت دونوں جگہ نفی کے معنی میں ہے یعنی تم نہ قرآن پر ایمان لاتے ہو نہ اس سے نصیحت حاصل کرتے ہو۔
لنک
69:42
43
تَنزِيلٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ
(یہ تو) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی رسول کی زبان سے ادا ہونے والا یہ قول رب العالمین کا اتارا ہوا کلام ہے اسے تم کبھی شاعری اور کبھی کہانت کہہ کر اس کی تکذیب کرتے ہو۔
لنک
69:43
44
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ ٱلْأَقَاوِيلِ
اور اگر یہ ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا.[1]
حواشی
[1] یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کر دیتا، یا اس میں کمی بیشی کر دیتا، تو ہم فوراً اس کا مؤاخذہ کرتے اور اسے ڈھیل نہ دیتے جیسا کہ اگلی آیات میں فرمایا۔
لنک
69:44
45
لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِٱلْيَمِينِ
تو البتہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے.[1]
حواشی
[1] یا دائیں ہاتھ کے ساتھ اس کی گرفت کرتے، اس لئے کہ دائیں ہاتھ سے گرفت زیادہ سخت ہوتی ہے۔ اور اللہ کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں۔
لنک
69:45
46
ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ ٱلْوَتِينَ
پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے.[1]
حواشی
[1] خیال رہے یہ سزا، خاص نبی (صلى الله عليه وسلم) کے ضمن میں بیان کی گئی ہے جس سے مقصد آپ کی صداقت کا اظہار ہے۔ اس میں یہ اصول بیان نہیں کیا گیا ہے کہ جو بھی نبوت کا جھوٹا وعدہ کرے تو جھوٹے مدعی کو ہم فورا سزا سے دوچار کردیں گے لہذا اس سے کسی جھوٹے نبی کو اس لیے سچا باور نہیں کرایا جاسکتا کہ دنیا میں وہ مؤخذہ الہی سے بچا رہا۔واقعات بھی شاہد ہیں کہ متعدد لوگوں نے نبوت کے جھوٹے دعوے کیے اور اللہ نے انہیں ڈھیل دی اور دنیوی مواخذا سے وہ با لعموم محفوظہی رہے۔اس لئے اگر اسے اصول ناب لیا جائے تو پھر متعدد جھوٹے مدعیان نبوت کو "سچا نبی ماننا پڑے گا،
لنک
69:46
47
فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَـٰجِزِينَ
پھر تم میں سے کوئی بھی مجھے اس سے روکنے واﻻ نہ ہوتا.[1]
حواشی
[1] اس سے معلوم ہوا کہ حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) سچے رسول تھے، جن کو اللہ نے سزا نہیں دی، بلکہ دلائل و معجزات اور اپنی خاص تائید و نصرت سے انہیں نوازا۔
لنک
69:47
48
وَإِنَّهُۥ لَتَذْكِرَةٌۭ لِّلْمُتَّقِينَ
یقیناً یہ قرآن پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے.[1]
حواشی
[1] کیونکہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ورنہ قرآن تو سارے ہی لوگوں کے لیے نصیحت لے کر آیا ہے۔
لنک
69:48
49
وَإِنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّ مِنكُم مُّكَذِّبِينَ
ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کے جھٹلانے والے ہیں.
لنک
69:49
50
وَإِنَّهُۥ لَحَسْرَةٌ عَلَى ٱلْكَـٰفِرِينَ
بیشک (یہ جھٹلانا) کافروں پر حسرت ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی قیامت والے دن اس پر حسرت کریں گے، کہ کاش ہم نے قرآن کی تکذیب نہ کی ہوتی۔ یا یہ قرآن بجائے خود ان کے لئے حسرت کا باعث ہوگا، جب وہ اہل ایمان کو قرآن کا اجر ملتے ہوئے دیکھیں گے۔
لنک
69:50
51
وَإِنَّهُۥ لَحَقُّ ٱلْيَقِينِ
اور بیشک (و شبہ) یہ یقینی حق ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی قرآن اللہ کی طرف سے ہونا بالکل یقینی ہے، اس میں قطعًا شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ یا قیامت کی بابت جو خبر دی جا رہی ہے، وہ بالکل حق اور سچ ہے۔
لنک
69:51
52
فَسَبِّحْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلْعَظِيمِ
پس تو اپنے رب عظیم کی پاکی بیان کر.[1]
حواشی
[1] جس نے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب نازل فرمائی۔
لنک
69:52