114 میں سے سورت 80 · مکی
سورہ عبس (تیوری چڑھائی)
سُورَةُ عَبَسَ
معانی کا ترجمہ: Muhammad Junagarhi، QuranEnc.com، ورژن 1.1.3۔ ترجمہ قرآن کے معانی بیان کرتا ہے۔ قرآن بذاتِ خود عربی متن ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1
2
أَن جَآءَهُ ٱلْأَعْمَىٰ
(صرف اس لئے) کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا.[1]
حواشی
[1] ابن ام مکتوم سےنبی (صلى الله عليه وسلم) کے چہرے پر جو ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے، اسے عَبَسَ سے اور توجہی کو تَوَلَّى ٰ سے تعبیر فرمایا۔
لنک
80:2
3
وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ
تجھے کیا خبر شاید وه سنور جاتا.[1]
حواشی
[1] یعنی وہ نابینا تجھ سے دینی رہنمائی حاصل کرکے عمل صالح کرتا جس سے اس کا اخلا ق وکردار سنور جاتا، اس کے باطن کی اصلاح ہو جاتی اور تیری نصیحت سننے سے اس کو فائدہ ہوتا۔
لنک
80:3
4
5
أَمَّا مَنِ ٱسْتَغْنَىٰ
جو بے پرواہی کرتا ہے.[1]
حواشی
[1] ایمان سے اور اس علم سے جو تیرے پاس اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ یا دوسرا ترجمہ ہے جو صاحب ثروت وغنا ہے۔
لنک
80:5
6
فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ
اس کی طرف تو تو پوری توجہ کرتا ہے.[1]
حواشی
[1] اس میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کو مزید توجہ دلائی گئی ہے کہ مخلصین کو چھوڑ کر معرضین کی طرف توجہ مبذول رکھنا صحیح بات نہیں ہے۔
لنک
80:6
7
وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ
حاﻻنکہ اس کے نہ سنورنے سے تجھ پر کوئی الزام نہیں.[1]
حواشی
[1] کیوں کہ تیرا کام تو صرف تبلیغ ہے۔ اس لئے اس قسم کے کفار کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔
لنک
80:7
8
وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسْعَىٰ
اور جو شخص تیرے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے.[1]
حواشی
[1] اس بات کا طالب بن کر کہ تو خیر کی طرف اس کی رہنمائی کرے اور اسے وعظ ونصیحت سے نوازے۔
لنک
80:8
9
وَهُوَ يَخْشَىٰ
اور وه ڈر (بھی) رہا ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی اللہ کا خوف بھی اس کے دل میں ہے، جس کی وجہ سے یہ امید ہے کہ تیری باتیں اس کےلئے مفید ہوں گی اور وہ ان کو اپنائے گا اور ان پر عمل کرے گا۔
لنک
80:9
10
فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ
تو اس سے بےرخی برتتا ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی ایسے لوگوں کی تو قدر افزائی کی ضرورت ہے نہ کہ ان سے بےرخی برتنے کی۔ ان آیات سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دعوت وتبلیغ میں کسی کو خاص نہیں کرنا چاہئے بلکہ اصحاب حیثیت اور بےحیثیت، امیر اور غریب، آقا وغلام، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے سب کو یکساں حیثیت دی جائے اور سب کو مشترکہ خطاب کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا اپنی حکمت بالغہ کے تحت، ہدایت سے نواز دے گا۔ ( ابن کثیر ) ۔
لنک
80:10
11
كَلَّآ إِنَّهَا تَذْكِرَةٌۭ
یہ ٹھیک نہیں[1] قرآن تو نصیحت (کی چیز) ہے.
حواشی
[1] یعنی غریب سے یہ اعراض اور اصحاب حیثیت کی طرف خصوصی توجہ، یہ ٹھیک نہیں۔ مطلب ہے کہ آئندہ اس کا اعادہ نہ ہو۔
لنک
80:11
12
فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ
جو چاہے اس سے نصیحت لے.[1]
حواشی
[1] یعنی جو اس میں رغبت کرے، وہ اس سے نصیحت حاصل کرے، اسے یاد کرے اور اس کے موجبات پر عمل کرے۔ اور جو اس اعراض سے کرے اور بے رخی برتے، جیسے اشراف قریش نے کیا، تو ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
لنک
80:12
13
فِى صُحُفٍۢ مُّكَرَّمَةٍۢ
(یہ تو) پر عظمت صحیفوں میں (ہے).[1]
حواشی
[1] یعنی لوح محفوظ میں، کیوں کہ وہیں سے یہ قرآن اترتا ہے۔ یا مطلب ہے کہ یہ صحیفے اللہ کے ہاں بڑےمحترم ہیں کیوں کہ وہ علم وحکمت سے پر ہیں۔
لنک
80:13
14
مَّرْفُوعَةٍۢ مُّطَهَّرَةٍۭ
جو بلند وباﻻ اور پاک صاف ہے.[1]
حواشی
[1] مَرْفُوعَةٍ اللہ کے ہاں رفیع القدر ہیں، یا شبہات اور تناقض سے بلند ہیں۔ مُطَهَّرَةٍ، وہ بالکل پاک ہیں کیوں کہ انہیں پاک لوگوں ( فرشتوں ) کے سوا کوئی چھوتا ہی نہیں، یا کمی بیشی سے پاک ہے۔
لنک
80:14
15
بِأَيْدِى سَفَرَةٍۢ
ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے.[1]
حواشی
[1] سَفَرَةٍ، سَافِرٌ کی جمع ہے، یہ سفارت سے ہے۔ مراد یہاں وہ فرشتے ہیں جو اللہ کی وحی اس کےرسولوں تک پہنچاتے ہیں۔ یعنی اللہ اور اس کےرسول کے درمیان سفارت کا کام کرتے ہیں۔ یہ قرآن ایسے سفیروں کے ہاتھوں میں ہےجو اسے لوح محفوظ سے نقل کرتے ہیں۔
لنک
80:15
16
كِرَامٍۭ بَرَرَةٍۢ
جو بزرگ اور پاکباز ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی خلق کے اعتبار سے وہ کریم یعنی شریف اور بزرگ ہیں اور افعال کے اعتبار سے وہ نیکو کار اور پاکباز ہیں۔ یہاں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حامل قرآن ( حافظ اور عالم ) کو بھی اخلاق وکردار اور افعال واطوار میں كِرَامٍ بَرَرَةٍ کا مصداق ہونا چاہئے۔ (ابن کثیر) حدیث میں بھی سَفَرَةٍ کا لفظ فرشتوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا ماہر ہے، وہ السَّفَرَةُ الكِرَامُ الْبَرَرَةُ ( فرشتوں ) کے ساتھ ہوگا اور جو قرآن پڑھتا ہے، لیکن مشقت کےساتھ۔ ( یعنی ماہرین کی طرح سہولت اور روانی سےنہیں پڑھتا ) اس کے لئے دوگنا اجر ہے۔ (صحيح بخاري، تفسير سورة عبس مسلم، كتاب الصلاة، باب فضل الماهر بالقرآن....)۔
لنک
80:16
17
قُتِلَ ٱلْإِنسَـٰنُ مَآ أَكْفَرَهُۥ
اللہ کی مار انسان پر کیسا ناشکرا ہے.[1]
حواشی
[1] اس سے وہ انسان مراد ہے جو بغیر کسی سند اور دلیل کے قیامت کی تکذیب کرتا ہے۔ قُتِلَ بمعنی لُعِنَ اور مَا أَكْفَرَهُ ! فعل تعجب ہے، کس قدر ناشکرا ہے۔ آگے اس انسان کفور کو غور وفکر کی دعوت دی جا رہی ہے کہ شاید وہ اپنے کفر سے باز آجائے۔
لنک
80:17
18
19
مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ
اسے) ایک نطفہ[1] سے پیدا کیا،پھراس کا اندازہ مقررکیا .[2]
حواشی
[1] یعنی جس کی پیدائش ایسے حقیر قطرۂ آب سے ہوئی ہے، کیا اسے تکبر زیب دیتا ہے؟ [2] اس کا مطلب ہے کہ اس کے مصالح نفس اسے مہیا کیے، اس کو دو ہاتھ دو پیر اوردو آنکھیں اور دیگر آلات وخواص عطا کیے۔
لنک
80:19
20
ثُمَّ ٱلسَّبِيلَ يَسَّرَهُۥ
پھر اس کے لئے راستہ آسان کیا.[1]
حواشی
[1] یعنی خیر اور شر کے راستے اس کے لئے واضح کر دیئے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ ہے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
لنک
80:20
21
22
23
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ أَمَرَهُۥ
ہرگز نہیں[1] ۔ اس نے اب تک اللہ کے حکم کی بجا آوری نہیں کی.
حواشی
[1] یعنی معاملہ اس طرح نہیں ہے‘ جس طرح یہ کافر کہتا ہے۔
لنک
80:23
24
فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَـٰنُ إِلَىٰ طَعَامِهِۦٓ
انسان کو چاہئے کہ اپنے کھانے کو دیکھے.[1]
حواشی
[1] کہ اسے اللہ نے کس طرح پیدا کیا، جو اس کی زندگی کا سبب ہے اور کس طرح اس کے لئے اسباب معاش مہیا کئے تاکہ وہ ان کے ذریعے سے سعادت اخروی حاصل کر سکے۔
لنک
80:24
25
26
27
28
29
30
31
وَفَـٰكِهَةًۭ وَأَبًّۭا
اور میوه اور (گھاس) چاره (بھی اگایا).[1]
حواشی
[1] أباً، وہ گھاس چارہ جو خود رو ہو اور جسے جانور کھاتے ہیں۔
لنک
80:31
32
مَّتَـٰعًۭا لَّكُمْ وَلِأَنْعَـٰمِكُمْ
تمہارے استعمال وفائدے کے لئے اور تمہارے چوپایوں کے لئے.
لنک
80:32
33
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلصَّآخَّةُ
پس جب کہ کان بہرے کر دینے والی (قیامت) آجائے گی.[1]
حواشی
[1] قیامت کو صَاخَّةٌ (بہرا کر دینے والی) اس لئے کہا کہ وہ ایک نہایت سخت چیخ کے ساتھ واقع ہوگی جو کانوں کو بہرہ کر دے گی۔
لنک
80:33
34
35
36
37
لِكُلِّ ٱمْرِئٍۢ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍۢ شَأْنٌۭ يُغْنِيهِ
ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر (دامن گیر) ہوگی جو اس کے لئے کافی ہوگی.[1]
حواشی
[1] یا اپنے اقربا اور احباب سے بے نیاز اور بے پروا کر دے گا۔ حدیث میں آتا ہے ۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ سب لوگ میدان محشر میں ننگے بدن، ننگے پیر، پیدل اور غیر مختون ہوں گے۔ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) نے پوچھا، اس طرح شرم گاہوں پر نظر نہیں پڑے گی ؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اس کے جواب میں یہی آیت تلاوت فرمائی۔ یعنی لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ ( الترمذي تفسير سورة عبس، النسائي، كتاب الجنائز، باب البعث) اس کی وجہ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ انسان اپنے گھر والوں سے اس لئےبھاگے گا تاکہ وہ اس کی وہ تکلیف اور شدت نہ دیکھیں جس میں وہ مبتلا ہوگا۔ بعض کہتے ہیں، اس لئے کہ انہیں علم ہوگا کہ وہ کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور ان کے کچھ کام نہیں آسکتے۔ (فتح القدیر ) ۔
لنک
80:37
38
39
ضَاحِكَةٌۭ مُّسْتَبْشِرَةٌۭ
(جو) ہنستے ہوئے اور ہشاش بشاش ہوں گے.[1]
حواشی
[1] یہ اہل ایمان کے چہرےہوں گے،جنہیں ان کے اعمال نامے ان کو دائیں ہاتھ میں ملیں گے جس سے انہیں اپنی اخروی سعادت وکامیابی کا یقین ہو جائے گا، جس سے ان کے چہرے خوشی سے تمتما رہے ہوں گے۔
لنک
80:39
40
41
تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ
جن پر سیاہی چڑھی ہوئی ہوگی.[1]
حواشی
[1] یعنی ذلت اور معائینہ عذاب سے ان کے چہرے غبار آلود، کدورت زدہ اور سیاہ ہوں گے، جیسے محزون اور نہایت غمگین آدمی کا چہرہ ہوتا ہے۔
لنک
80:41
42
أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَفَرَةُ ٱلْفَجَرَةُ
وه یہی کافر بدکردار لوگ ہوں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی اللہ کا، رسولوں کا اور قیامت کا انکار کرنے والے بھی تھے اور بدکردار اور بداطوار بھی۔ اللَّهُمَّ! لا تَجْعَلْنَا مِنْهُمْ ۔
لنک
80:42