114 میں سے سورت 81 · مکی

سورہ التکویر (لپیٹ دینا)

سُورَةُ التَّكۡوِيرِ
29 آیات

معانی کا ترجمہ: Muhammad Junagarhi، QuranEnc.com، ورژن 1.1.3۔ ترجمہ قرآن کے معانی بیان کرتا ہے۔ قرآن بذاتِ خود عربی متن ہے۔

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1
إِذَا ٱلشَّمْسُ كُوِّرَتْ
جب سورج لپیٹ لیا جائے گا.
لنک 81:1
2
وَإِذَا ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتْ
اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گی.[1]
حواشی[1] دوسرا ترجمہ ہےجھڑ کر گر جائیں گے۔ یعنی آسمان پر ان کا وجود ہی نہیں رہے گا۔
لنک 81:2
3
وَإِذَا ٱلْجِبَالُ سُيِّرَتْ
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے.[1]
حواشی[1] یعنی انہیں زمین سے اکھیڑ کر ہواؤں میں چلا دیا جائے گا اور وہ دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑیں گے۔
لنک 81:3
4
وَإِذَا ٱلْعِشَارُ عُطِّلَتْ
اور جب دس ماه کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں.[1]
حواشی[1] عِشَارٌ ، عُشَراءُ کی جمع ہے، حمل والیاں یعنی گابھن اونٹیناں، جب ان کا حمل دس مہینوں کا ہو جاتا ہےتو عربوں میں یہ بہت نفیس اور قیمتی سمجھیں جاتی تھیں۔ جب قیامت برپا ہوگی تو ایسا ہولناک منظر ہوگا کہ اگر کسی کے پاس اس قسم کی قیمتی اونٹنی بھی ہوں گی تو وہ ان کی بھی پروا نہیں کرے گا۔
لنک 81:4
5
وَإِذَا ٱلْوُحُوشُ حُشِرَتْ
اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے.[1]
حواشی[1] یعنی انہیں بھی قیامت والے دن جمع کیا جائے گا۔
لنک 81:5
6
وَإِذَا ٱلْبِحَارُ سُجِّرَتْ
اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے.[1]
حواشی[1] یعنی ان میں اللہ کے حکم سے آگ بھڑک اٹھے گی۔
لنک 81:6
7
وَإِذَا ٱلنُّفُوسُ زُوِّجَتْ
اور جب جانیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی.[1]
حواشی[1] اس کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ زیادہ قرین قیاس یہ معلوم ہوتاہے کہ ہر انسان کو اس کے ہم مذہب وہم مشرب کےساتھ ملا دیا جائے گا۔ مومن کو مومنوں کےساتھ اور بدکو بدوں کے ساتھ، یہودی کو یہودیوں کے ساتھ اور عیسائی کو عیسائیوں کے ساتھ، وَعَلَى هَذَا الْقِيَاسِ ۔
لنک 81:7
8
وَإِذَا ٱلْمَوْءُۥدَةُ سُئِلَتْ
اور جب زنده گاڑی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا.
لنک 81:8
9
بِأَىِّ ذَنۢبٍۢ قُتِلَتْ
کہ کس گناه کی وجہ سے وه قتل کی گئی؟[1]
حواشی[1] اس طرح دراصل قاتل کو سرزنش کی جائے گی کیونکہ اصل مجرم تو وہی ہوگا نہ کہ موءدۃ جس سے بظاہر سوال ہوگا۔
لنک 81:9
10
وَإِذَا ٱلصُّحُفُ نُشِرَتْ
اور جب نامہٴ اعمال کھول دیئے جائیں گے.[1]
حواشی[1] موت کے وقت یہ صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں، پھر قیامت والے دن حساب کےلئے کھول دیئے جائیں گے، جنہیں ہر شخص دیکھ لے گا بلکہ ہاتھوں میں پکڑا دیئے جائیں گے ۔
لنک 81:10
11
وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ كُشِطَتْ
اور جب آسمان کی کھال اتار لی جائے گی.[1]
حواشی[1] یعنی وہ اس طرح ادھیڑ دیئے جائیں گےجس طرح چھت ادھیڑ دی جاتی ہے۔
لنک 81:11
12
وَإِذَا ٱلْجَحِيمُ سُعِّرَتْ
اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی.
لنک 81:12
13
وَإِذَا ٱلْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ
اور جب جنت نزدیک کر دی جائے گی.
لنک 81:13
14
عَلِمَتْ نَفْسٌۭ مَّآ أَحْضَرَتْ
تو اس دن ہر شخص جان لے گا جو کچھ لے کر آیا ہوگا.[1]
حواشی[1] یہ جواب ہے یعنی جب مذکورہ امور ظہور پذیر ہوں گے، جن میں سے پہلے چھ امور کا تعلق دنیا سے ہے اور دوسرے چھ امور کا آخرت سے۔ اس وقت ہر ایک کے سامنے اس کی حقیقت آجائے گی۔
لنک 81:14
15
فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلْخُنَّسِ
میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے.
لنک 81:15
16
ٱلْجَوَارِ ٱلْكُنَّسِ
چلنے پھرنے والے چھپنے والے ستاروں کی.[1]
حواشی[1] اس سے مراد ستارے خُنَّسٌ، خَنَسَ سے ہے جس کے معنی پیچھےہٹنے کے ہیں۔ یہ ستارے دن کے وقت اپنے منظر سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور نظر نہیں آتے۔ اور یہ زخل، مشتری، مریخ، زہرہ، عطارد ہیں، یہ خاص طور پر سورج کے رخ پر ہوتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ سارے ہی ستارےمراد ہیں، کیوں کہ سب ہی اپنے غائب ہونے کی جگہ پر غائب ہو جاتے ہیں یا دن کو چھپے رہتے ہیں الْجَوَارِ چلنے والے، الْكُنَّسِ چھپ جانے والے، جیسے ہرن اپنے مکان اور مسکن میں چھپ جاتا ہے۔
لنک 81:16
17
وَٱلَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ
اور رات کی جب جانے لگے.[1]
حواشی[1] عَسْعَسَ، اضداد میں سے ہے، یعنی آنے اور جانے دونوں معنوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے، تاہم یہاں جانے کے معنی میں ہے۔
لنک 81:17
18
وَٱلصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ
اور صبح کی جب چمکنے لگے.[1]
حواشی[1] یعنی جب اس کا ظہور وطلوع ہو جائے، یا وہ پھٹ اور نکل آئے۔
لنک 81:18
19
إِنَّهُۥ لَقَوْلُ رَسُولٍۢ كَرِيمٍۢ
یقیناً یہ ایک بزرگ رسول کا کہا ہوا ہے.[1]
حواشی[1] اس لئے وہ اسے اللہ کی طرف لے کر آیا ہے۔ مراد حضرت جبرائیل (عليه السلام) ہیں۔
لنک 81:19
20
ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى ٱلْعَرْشِ مَكِينٍۢ
جو قوت واﻻ ہے[1] ، عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ ہے.
حواشی[1] یعنی جو کام اس کےسپرد کیاجائے،اسے پوری قوت سے کرتا ہے۔
لنک 81:20
21
مُّطَاعٍۢ ثَمَّ أَمِينٍۢ
جس کی (آسمانوں میں) اطاعت کی جاتی ہے اورامین[1] ہے.
حواشی[1] یعنی فرشتوں کے درمیان اس کی اطاعت کی جاتی ہے۔ وہ فرشتوں کا مرجع اور مطاع ہے نیز وحی کےسلسلے میں امین ہے۔
لنک 81:21
22
وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍۢ
اور تمہارا ساتھی دیوانہ نہیں ہے.[1]
حواشی[1] یہ خطاب اہل مکہ سے ہے اور صاحب مراد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ہیں۔ یعنی تم جو گمان رکھتے ہو کہ تمہارا ہم نسب اور ہم وطن ساتھ ساتھی، ( محمد صلى الله عليه وسلم) دیوانہ ہے ۔ نعوذ باللہ ۔ ایسا نہیں ہے، ذرا قرآن پڑھ کر تو دیکھوکہ کیا کوئی دیوانہ ایسے معارف وحقائق بیان کر سکتا ہے اور گزشتہ قوموں کے صحیح صحیح حالات بتلا سکتا ہے جو اس قرآن میں بیان کئے گئے ہیں۔
لنک 81:22
23
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِٱلْأُفُقِ ٱلْمُبِينِ
اس نے اس (فرشتے) کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے.[1]
حواشی[1] یہ پہلے ذکر گزر چکا ہے کہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت جبرائیل کو دو مرتبہ ان کی اصل حالت میں دیکھا ہے، جن میں سے ایک کا یہاں ذکر ہے۔ یہ ابتدائے نبوت کا واقعہ ہے، اس وقت حضرت جبرائیل (عليه السلام) کے چھ سو پر تھے، جنہوں نے آسمان کے کناروں کو بھر دیا تھا۔ دوسری مرتبہ معراج کے موقعے پر دیکھا۔ جیسا کہ سورۂ نجم میں تفصیل گزر چکی ہے۔
لنک 81:23
24
وَمَا هُوَ عَلَى ٱلْغَيْبِ بِضَنِينٍۢ
اور یہ غیب کی باتوں کو بتلانے میں بخیل بھی نہیں.[1]
حواشی[1] یہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی بابت وضاحت کی جا رہی ہے کہ آپ کو جن باتوں کی اطلاع دی جاتی ہے، جو احکام وفرائض آپ کو بتلائے جاتے ہیں، ان میں سےکوئی بات آپ اپنے پاس نہیں رکھتے بلکہ فریضۂ رسالت کی ذمے داریوں کا احساس کرتے ہوئے ہر بات اور ہر حکم لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں۔
لنک 81:24
25
وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَـٰنٍۢ رَّجِيمٍۢ
اور یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں.[1]
حواشی[1] جس طرح نجومیوں کے پاس شیطان آتے ہیں اور آسمانوں کی بعض چوری چھپی باتیں ادھوری شکل میں انہیں بتلا دیتے ہیں۔ قرآن ایسا نہیں ہے۔
لنک 81:25
26
فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ
پھر تم کہاں جا رہے ہو.[1]
حواشی[1] یعنی کیوں اس سےاعراض کرتے ہو ؟ اور اس کی اطاعت نہیں کرتے ؟
لنک 81:26
27
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌۭ لِّلْعَـٰلَمِينَ
یہ تو تمام جہان والوں کے لئے نصیحت نامہ ہے.
لنک 81:27
28
لِمَن شَآءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ
(بالخصوص) اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی راه پر چلنا چاہے.
لنک 81:28
29
وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَـٰلَمِينَ
اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاه سکتے.[1]
حواشی[1] یعنی تمہاری چاہت ، اللہ کی توفیق پر منحصر ہے، جب تک تمہاری چاہت کے ساتھ اللہ کی مشیت اور اس کی توفیق بھی شامل نہیں ہوگی، اس وقت تک تم سیدھا راستہ بھی اختیار نہیں کر سکتے۔ یہ وہی مضمون ہے جو إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ (القصص: 56) وغیرہ آیات میں بیان ہوا ہے۔
لنک 81:29

Niyat ایپ میں روزانہ قرآن پڑھیں اور سنیں، ساتھ میں نماز کے اوقات، قبلہ اور وہیں سے آغاز جہاں آپ نے چھوڑا تھا۔

Niyat مفت حاصل کریں