114 میں سے سورت 75 · مکی

سورہ القیامہ (قیامت)

سُورَةُ القِيَامَةِ
40 آیات

معانی کا ترجمہ: Muhammad Junagarhi، QuranEnc.com، ورژن 1.1.3۔ ترجمہ قرآن کے معانی بیان کرتا ہے۔ قرآن بذاتِ خود عربی متن ہے۔

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1
لَآ أُقْسِمُ بِيَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ
میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی.[1]
حواشی[1] لا اقسم میں لا زائد ہے جو عربی زبان کا ایک اسلوب ہے جیسے ”مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ“ (الاعراف: 12) اور ”لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ“ (الحدید: 29) اور دیگر بہت سے مقامات میں ہے بعض کہتے ہیں کہ قسم سے پہلے کفار کے کلام کا رد ہے وہ کہتے تھے مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں۔لا کے زیعے سے کہا گیا ، جس طرح کہتے ہو معاملہ اس طرح نہیں ہے میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں، قیامت کے دن کی قسم کھانے کا مقصد اس کی اہمیت اور عظمت کو واضح کرنا ہے۔
لنک 75:1
2
وَلَآ أُقْسِمُ بِٱلنَّفْسِ ٱللَّوَّامَةِ
اور قسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے واﻻ ہو.[1]
حواشی[1] یعنی بھلائی پر بھی کرتا ہے کہ زیادہ کیوں نہیں کی۔ اور برائی پر بھی، کہ اس سے باز کیوں نہیں آتا؟ دنیا میں بھی جن کے ضمیر بیدار ہوتے ہیں ان کے نفس انہیں ملامت کرتے ہیں، تاہم آخرت میں تو سب کے ہی نفس ملامت کریں گے۔
لنک 75:2
3
أَيَحْسَبُ ٱلْإِنسَـٰنُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُۥ
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں.[1]
حواشی[1] یہ جواب قسم ہے انسان سے مراد یہاں کافر اور بےدین انسان ہے جو قیامت کو نہیں مانتا۔ اس کا گمان غلط ہے، اللہ تعالٰی یقینا انسانوں کے اجزا کو جمع فرمائے گا یہاں ہڈیوں کا بطور خاص ذکر ہے، اس لیئے کہ ہڈیاں ہی پیدائش کا اصل ڈھانچہ اور قالب ہیں۔
لنک 75:3
4
بَلَىٰ قَـٰدِرِينَ عَلَىٰٓ أَن نُّسَوِّىَ بَنَانَهُۥ
ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں.[1]
حواشی[1] بَنَان (پور پور) جوڑوں، ناخن، لطیف رگوں اور باریک ہڈیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب یہ باریک اور لطیف چیزیں ہم بالکل صحیح صحیح جوڑ دیں گے تو بڑے حصے کو جوڑ دینا ہمارے لئے کیا مشکل ہوگا۔
لنک 75:4
5
بَلْ يُرِيدُ ٱلْإِنسَـٰنُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُۥ
بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آگے آگے نافرمانیاں کرتا جائے.[1]
حواشی[1] یعنی اس امید پر نافرمانی اور حق کا انکار کرتا ہے کہ کون سی قیامت آنی ہے۔
لنک 75:5
6
يَسْـَٔلُ أَيَّانَ يَوْمُ ٱلْقِيَـٰمَةِ
پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا.[1]
حواشی[1] یہ سوال اس لئے نہیں کرتا کہ گناہوں سے تائب ہو جائے، بلکہ قیامت کو ناممکن الو قوع سمجھتے ہوئے پوچھتا ہے۔ اسی لیے فسق وفجور سے باز نہیں آتا۔ تاہم اگلی ٓآیت میں اللہ تعالٰی قیامت کے آنے کا وقت بیان فرما رہاہے۔
لنک 75:6
7
فَإِذَا بَرِقَ ٱلْبَصَرُ
پس جس وقت کہ نگاه پتھرا جائے گی.[1]
حواشی[1] دہشت اور حیرانی سے برق ،تحیر و اندھش جیسے موت کے وقت عام طور پر ہوتا ہے۔
لنک 75:7
8
وَخَسَفَ ٱلْقَمَرُ
اور چاند بے نور ہو جائے گا.[1]
حواشی[1] جب چاند کو گرہن لگ جاتا ہے تو اس وقت بھی وہ بےنور ہو جاتا ہے۔ لیکن جو علامات قیامت میں سے ہے، جب ہوگا تو اس کے بعد اس میں روشنی نہیں آئے گی۔
لنک 75:8
9
وَجُمِعَ ٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ
اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے.[1]
حواشی[1] یعنی بےنوری میں۔ مطلب ہے کہ چاند کی طرح سورج کی روشنی بھی ختم ہو جائے گی۔
لنک 75:9
10
يَقُولُ ٱلْإِنسَـٰنُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ ٱلْمَفَرُّ
اس دن انسان کہے گا کہ آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟[1]
حواشی[1] یعنی جب یہ واقعات ظہور پذیر ہونگے تو پھر اللہ سے یا جہنم کے عذاب سے راہ فرار ڈھونڈے گا، لیکن اس وقت راہ فرار کہاں ہوگی؟
لنک 75:10
11
كَلَّا لَا وَزَرَ
نہیں نہیں کوئی پناہ گاه نہیں.[1]
حواشی[1] وَزَرَ پہاڑ یا قعلے کو کہتے ہیں جہاں انسان پناہ حاصل کرلے۔ وہاں ایسی کوئی پناہ گاہ نہیں ہوگی۔
لنک 75:11
12
إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ٱلْمُسْتَقَرُّ
آج تو تیرے پروردگار کی طرف ہی قرار گاه ہے.[1]
حواشی[1] جہاں وہ بندوں کے درمیان فیصلے فرمائے گا۔ یہ ممکن نہیں ہوگا کہ کوئی اللہ کی اس عدالت سے چھپ جائے۔
لنک 75:12
13
يُنَبَّؤُا۟ ٱلْإِنسَـٰنُ يَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ
آج انسان کو اس کے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے سے آگاه کیا جائے گا.[1]
حواشی[1] یعنی اس کے تمام اعمال سے آگاہ کیا جائے گا قدیم ہو یا جدید، اول ہو یا آخر چھوٹا ہو یا بڑا۔ ”وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا“ (الکھف:49)
لنک 75:13
14
بَلِ ٱلْإِنسَـٰنُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ بَصِيرَةٌۭ
بلکہ انسان خود اپنے اوپر آپ حجت ہے.[1]
حواشی[1] یعنی اس کے اپنے ہاتھ، پاؤں، زبان اور دیگر اعضاء گواہی دیں گے، یا یہ مطلب ہے کہ انسان اپنے عیوب خود جانتا ہے۔
لنک 75:14
15
وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُۥ
اگر چہ کتنے ہی بہانے پیش کرے.[1]
حواشی[1] یعنی لڑے جھگڑے، ایک سے ایک بہانہ کرے، لیکن ایسا کرنا نہ اس کے لئے مفید ہے اور نہ وہ اپنے ضمیر کو مطمئن کر سکتا ہے۔
لنک 75:15
16
لَا تُحَرِّكْ بِهِۦ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِۦٓ
(اے نبی) آپ قرآن کو جلدی (یاد کرنے) کے لیے اپنی زبان کو حرکت[1] نہ دیں.
حواشی[1] حضرت جبرائیل (عليه السلام) جب وحی لے کر آتے نبی (صلى الله عليه وسلم) بھی ان کے ساتھ جلدی سے پڑھتے جاتے کہ کہیں کوئی لفظ بھول نہ جائے۔ اللہ نے اپنے فرشتے کے ساتھ ساتھ اس طرح پڑھنے سے منع فرمایا۔ (صحیح بخاری' تفسہر سورۃ القیامہ) یہ مضمون پہلے بھی گزر چکا ہے ”وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ“ (سورۃ طٰہٰ:114) چنانچہ اس حکم کے بعد آپ خاموشی سے سنتے۔
لنک 75:16
17
إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُۥ وَقُرْءَانَهُۥ
اس کا جمع کرنا اور (آپ کی زبان سے) پڑھنا ہمارے ذمہ ہے.[1]
حواشی[1] یعنی آپ کے سینے میں اس کا جمع کر دینا اور آپ کی زبان پر اس کی قرأت کو جاری کر دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ تاکہ اس کا کوئی حصہ آپ کی یاداشت سے نہ نکلے اور آپ کے ذہن سے محو نہ ہو۔
لنک 75:17
18
فَإِذَا قَرَأْنَـٰهُ فَٱتَّبِعْ قُرْءَانَهُۥ
ہم جب اسے پڑھ[1] لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں.[2]
حواشی[1] یعنی فرشتے کے ذریعے سے جب ہم اس کی قرأت آپ پوری کرلیں۔ [2] یعنی اس کے شرائع و احکام لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور ان کی پیروی بھی کریں۔
لنک 75:18
19
ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُۥ
پھر اس کا واضح کر دینا ہمارے ذمہ ہے.[1]
حواشی[1] یعنی اس کے مشکل مقامات کی تشریح اور حلال وحرام کی توضیح یہ بھی ہمارے ذمے ہے اس کا صاف مطلب ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے قرآن کے مجملات کی توضیح جو تخصیص بیان فرمائی ہے جسے حدیث کہاجاتا ہے یہ بھی اللہ کی طرف سے ہی الہام اور سمجھائی ہوئی باتیں ہیں اس لیے انہیں بھی قرآن کی طرح ماننا ضروری ہے۔
لنک 75:19
20
كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ ٱلْعَاجِلَةَ
نہیں نہیں تم جلدی ملنے والی (دنیا) کی محبت رکھتے ہو.
لنک 75:20
21
وَتَذَرُونَ ٱلْـَٔاخِرَةَ
اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو.[1]
حواشی[1] یعنی یوم قیامت کو جھٹلانا اور حق سے اعراض، اسلئے ہے کہ تم نے دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور آخرت تمہیں بالکل فراموش ہے۔
لنک 75:21
22
وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۢ نَّاضِرَةٌ
اس روز بہت سے چہرے تروتازه اور بارونق ہوں گے.
لنک 75:22
23
إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌۭ
اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے.[1]
حواشی[1] یہ اہل ایمان کے چہرے ہونگے جو اپنے حسن انجام کی وجہ سے مطمئن، مسرور اور منور ہونگے۔ مذید دیدار الٰہی سے بھی لطف اندوز ہونگیں۔ جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے اور اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے۔
لنک 75:23
24
وَوُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۭ
اور کتنے چہرے اس دن (بد رونق اور) اداس ہوں گے.[1]
حواشی[1] یہ کافروں کے چہرے ہونگے سیاہ اور بےرونق۔
لنک 75:24
25
تَظُنُّ أَن يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌۭ
سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے واﻻ معاملہ[1] کیا جائے گا.
حواشی[1] اور وہ یہی ہے کہ جہنم میں ان کو پھینک دیا جائے گا۔
لنک 75:25
26
كَلَّآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلتَّرَاقِىَ
نہیں نہیں[1] جب روح ہنسلی تک[2] پہنچے گی.
حواشی[1] یعنی یہ ممکن نہیں کہ کافر قیامت پر ایمان لے آئیں۔ [2] تراقی، ترقوہ کی جمع ہے ۔یہ گردن کے قریب، سینے اور کندھے کے درمیان ایک ہڈی ہے، یعنی جب موت آئے گی آہنی پنجہ تمہیں اپنی گرفت میں لے لے گا۔
لنک 75:26
27
وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍۢ
اور کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک[1] کرنے واﻻ ہے؟
حواشی[1] یعنی حاضرین میں سے کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کے ذریعہ سے تمہیں موت کے پنجے سے چھڑا لے۔ بعض نے اس کا ترجمہ یہ بھی کیا ہے کہ اس کی روح کون لے کر چڑھے گا ملائکہ رحمت یا ملائکہ عذاب؟ اس صورت میں یہ قول فرشتوں کا ہے۔
لنک 75:27
28
وَظَنَّ أَنَّهُ ٱلْفِرَاقُ
اور جان لیا اس نے کہ یہ وقت جدائی ہے.[1]
حواشی[1] یعنی وہ شخص یقین کر لے گا جس کی روح ہنسلی تک پہنچ گئی ہے کہ اب، مال، اولاد اور دنیا کی ہرچیز سے جدائی کا مرحلہ آگیا ہے۔
لنک 75:28
29
وَٱلْتَفَّتِ ٱلسَّاقُ بِٱلسَّاقِ
اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی.[1]
حواشی[1] اس سے یا تو موت کے وقت پنڈلی کا پنڈلی کے ساتھ مل جانا مراد ہے یا پے درپے تکلیفیں، بہت سے مفسرین نے دوسرے معنی کئے ہیں۔ (فتح القدیر)
لنک 75:29
30
إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ٱلْمَسَاقُ
آج تیرے پروردگار کی طرف چلنا ہے.
لنک 75:30
31
فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ
اس نے نہ تو تصدیق کی نہ نماز ادا کی.[1]
حواشی[1] یعنی اس انسان نے رسول اور قرآن کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی یعنی اللہ کی عبادت نہیں کی۔
لنک 75:31
32
وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ
بلکہ جھٹلایا اور روگردانی کی.[1]
حواشی[1] یعنی رسول کو جھٹلایا اور ایمان و اطاعت سے روگردانی کی۔
لنک 75:32
33
ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ يَتَمَطَّىٰٓ
پھر اپنے گھر والوں کے پاس اتراتا ہوا گیا.[1]
حواشی[1] یَتَمَطَّیٰ اتراتا اور اکڑاتا ہوا۔
لنک 75:33
34
أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ
افسوس ہے تجھ پر حسرت ہے تجھ پر.
لنک 75:34
35
ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰٓ
وائے ہے اور خرابی ہے تیرے لیے.[1]
حواشی[1] یہ کلمہ وعید سے کہا جاتا ہے کہ اس کی اصل ہے، اللہ تجھے ایسی چیز سے دو چار کرے جسے تو ناپسند کرے۔
لنک 75:35
36
أَيَحْسَبُ ٱلْإِنسَـٰنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا.[1]
حواشی[1] یعنی اس کو کسی چیز کا حکم دیا جائے گا، نہ کسی چیز سے منع کیا جائے گا، نہ اس کا محاسبہ ہوگا۔ یا اس کی قبر میں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا جائے گا، وہاں سے اسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔
لنک 75:36
37
أَلَمْ يَكُ نُطْفَةًۭ مِّن مَّنِىٍّۢ يُمْنَىٰ
کیا وه ایک گاڑھے پانی کا قطره نہ تھا جو ٹپکایا گیا تھا؟
لنک 75:37
38
ثُمَّ كَانَ عَلَقَةًۭ فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ
پھر وه لہو کا لوتھڑا ہوگیا پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست بنا دیا.[1]
حواشی[1] فَسَوَّیٰ، یعنی اسے ٹھیک ٹھاک کیا اور اس کی تکمیل کی اور اس میں روح پھونکی۔
لنک 75:38
39
فَجَعَلَ مِنْهُ ٱلزَّوْجَيْنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓ
پھر اس سے جوڑے یعنی نر وماده بنائے.
لنک 75:39
40
أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَـٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحْـِۧىَ ٱلْمَوْتَىٰ
کیا (اللہ تعالیٰ) اس (امر) پر قادر نہیں کہ مردے کو زنده کردے.[1]
حواشی[1] یعنی جواللہ انسان کو اس طرح مختلف اطوار سے گزار کر پیدا فرماتا ہے کیا مرنے کے بعد دوبارہ اسے زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے؟
لنک 75:40

Niyat ایپ میں روزانہ قرآن پڑھیں اور سنیں، ساتھ میں نماز کے اوقات، قبلہ اور وہیں سے آغاز جہاں آپ نے چھوڑا تھا۔

Niyat مفت حاصل کریں