114 میں سے سورت 91 · مکی
سورہ الشمس (سورج)
سُورَةُ الشَّمۡسِ
معانی کا ترجمہ: Muhammad Junagarhi، QuranEnc.com، ورژن 1.1.3۔ ترجمہ قرآن کے معانی بیان کرتا ہے۔ قرآن بذاتِ خود عربی متن ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1
وَٱلشَّمْسِ وَضُحَىٰهَا
قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی.[1]
حواشی
[1] ﯾﺎ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻛﯽ, ﯾﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺿﺤﲐ ﺳﮯ ﺩﻥ ﮨﮯ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻮﺭﺝ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻥ ﻛﯽ ﻗﺴﻢ۔
لنک
91:1
2
وَٱلْقَمَرِ إِذَا تَلَىٰهَا
قسم ہے چاند کی جب اس کے پیچھے آئے.[1]
حواشی
[1] یعنی جب سورج غروب ہونے کے بعد وہ طلوع ہو، جیسا کہ پہلے نصف مہینے میں ایسا ہوتا ہے۔
لنک
91:2
3
وَٱلنَّهَارِ إِذَا جَلَّىٰهَا
قسم ہے دن کی جب سورج کو نمایاں کرے.[1]
حواشی
[1] یا تاریکی کو دور کرے، ظلمت کا پہلے ذکر تو نہیں ہے لیکن سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ (فتح القدیر)۔
لنک
91:3
4
وَٱلَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰهَا
قسم ہے رات کی جب اسے ڈھانﭗ لے.[1]
حواشی
[1] یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور ہر سمت اندھیرا چھا جائے۔
لنک
91:4
5
وَٱلسَّمَآءِ وَمَا بَنَىٰهَا
قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنانے کی.[1]
حواشی
[1] یا اس ذات کی جس نے اسے بنایا۔ پہلی معنی کی رو سے ما بمعنی مَنْ ہوگا۔
لنک
91:5
6
وَٱلْأَرْضِ وَمَا طَحَىٰهَا
قسم ہے زمین کی اور اسے ہموار کرنے کی.[1]
حواشی
[1] یا جس نے اسے ہموار کیا۔
لنک
91:6
7
وَنَفْسٍۢ وَمَا سَوَّىٰهَا
قسم ہے نفس کی اور اسے درست بنانے کی.[1]
حواشی
[1] یا جس نے اسے درست کیا۔ درست کرنے کا مطلب ہے، اسے متناسب الاعضاء بنایا، بےڈھبا اور بےڈھنگا نہیں بنایا۔
لنک
91:7
8
فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَىٰهَا
پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر چلنے کی.[1]
حواشی
[1] الہام کا مطلب یا تو یہ ہے کہ انہیں اچھی طرح سمجھا دیا اور انہیں انبیا علیہم السلام اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے خیر وشر کی پہچان کروا دی۔ یا مطلب ہے کہ ان کی عقل اور فطرت میں خیر اور شر، نیکی اور بدی کا شعور ودیعت کر دیا۔ تاکہ وہ نیکی کو اپنائیں اور بدی سے اجتناب کریں۔
لنک
91:8
9
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّىٰهَا
جس نے اسے پاک کیا وه کامیاب ہوا.[1]
حواشی
[1] شرک سے، معصیت سے اور اخلاقی آلائشوں سے پاک کیا، وہ آخروی فوز وفلاح سے ہمکنار ہوگا۔
لنک
91:9
10
وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّىٰهَا
اور جس نے اسے خاک میں ملا دیا وه ناکام ہوا.[1]
حواشی
[1] یعنی جس نے اسے گمراہ کر لیا، وہ خسارے میں رہا۔ دَسٌّ، تَدْسِيسٌ سے ہے، جس کے معنی ہیں۔ ایک چیز کو دوسری چیز میں چھپا دینا۔ دَسَّاهَا کے معنی ہوں گے جس نے اپنے نفس کو چھپا دیا اور اسے بے کار چھوڑ دیا اور اسے اللہ کی اطاعت اور عمل صالح کے ساتھ مشہور نہیں کیا۔
لنک
91:10
11
كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَىٰهَآ
(قوم) ثمود نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا.[1]
حواشی
[1] طُغْيَانٌ وہ سرکشی جو حد سےتجاوز کر جائے اسی طغیان نے انہیں تکذیب پر آمادہ کیا۔
لنک
91:11
12
إِذِ ٱنۢبَعَثَ أَشْقَىٰهَا
جب ان میں کا بڑا بدبخت اٹھ کھڑا ہوا.[1]
حواشی
[1] جس کا نام مفسرین قدار بن سالف بتلاتے ہیں۔ اس کا ایسا کام کیا کہ یہ رئیس الاشقیاء بن گیا سب سے بڑا شقی (بدبخت)۔
لنک
91:12
13
فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ ٱللَّهِ نَاقَةَ ٱللَّهِ وَسُقْيَـٰهَا
انہیں اللہ کے رسول نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کی (حفاظت کرو).[1]
حواشی
[1] یعنی اس اونٹنی کو کوئی نقصان نہ پہنچائے، اسی طرح اس کے لئے پانی پینے کا جو دن ہو، اس میں بھی گڑ بڑ نہ کی جائے۔ اونٹنی اور قوم ثمود دونوں کے لئے پانی کا ایک ایک دن مقرر کر دیا گیا تھا۔ اس کی حفاظت کی تاکید کی گئی۔ لیکن ان ظالموں نے پروا نہیں کی۔
لنک
91:13
14
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنۢبِهِمْ فَسَوَّىٰهَا
ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کو جھوٹا سمجھ کر اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں[1] ، پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کے باعث ان پر ہلاکت ڈالی[2] اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو برابر کردیا.[3]
حواشی
[1] یہ کام ایک ہی شخص قدار نے کیا تھا۔ لیکن چوں کہ اس شرارت میں قوم بھی اس کے ساتھ تھی اس لئے اس میں سب کو برابر کا مجرم قرار دیا گیا۔ اور تکذیب اور اونٹنی کی کوچیں کاٹنے کی نسبت پوری قوم کی طرف کی گئی۔ جس سے یہ اصول معلوم ہوا کہ ایک برائی کا ارتکاب کرنے والے اگر چند ایک افراد ہوں لیکن پوری قوم اس برائی پر نکیر کرنے کے بجائے اسےپسند کرتی ہو تو اللہ کے ہاں پوری قوم اس برائی کی مرتکب قرار پائے گی اور اس جرم یا برائی میں برابر کی شریک سمجھی جائے گی۔ [2] دَمْدَمَ عَلَيْهِمْ ، ان کو ہلاک کر دیا اور ان پر سخت عذاب نازل کیا۔ [3] عام کر دیا، یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا، کسی کو نہیں چھوڑا، چھوٹا بڑا، سب کو نیست ونابود کر دیا گیا۔ یا زمین کو ان پر برابر کر دیا یعنی سب کو تہ خاک کر دیا۔
لنک
91:14
15
وَلَا يَخَافُ عُقْبَـٰهَا
وه نہیں ڈرتا اس کے تباه کن انجام سے.[1]
حواشی
[1] یعنی اللہ تعالیٰ کو یہ ڈر نہیں ہے کہ اس نے انہیں سزا دی ہے کہ کوئی بڑی طاقت اس کا اس سے بدلہ لے گی۔ وہ انجام سے بےخوف ہے کیوں کہ کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو اس سے بڑھ کر یا اس کے برابر ہی ہو، جو اس سے انتقام لینے کی قدرت رکھتی ہو۔
لنک
91:15