114 میں سے سورت 78 · مکی

سورہ النبا (بڑی خبر)

سُورَةُ النَّبَإِ
40 آیات

معانی کا ترجمہ: Muhammad Junagarhi، QuranEnc.com، ورژن 1.1.3۔ ترجمہ قرآن کے معانی بیان کرتا ہے۔ قرآن بذاتِ خود عربی متن ہے۔

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1
عَمَّ يَتَسَآءَلُونَ
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں.[1]
حواشی[1] جب رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کو خلعت نبوت سے نوازا گیا اور آپ نےتوحید، قیامت وغیرہ کا بیان فرمایا اور قرآن کی تلاوت فرمائی تو کفار ومشرکین باہم ایک دوسرے سے پوچھتے کہ یہ قیامت کیا واقعی ممکن ہے؟ جیسا کہ یہ شخص دعویٰ کر رہا ہے یا یہ قرآن واقعی اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جیسا کہ محمد (صلى الله عليه وسلم) کہتا ہے۔ استفہام کے ذریعے سے اللہ نے پہلے ان چیزوں کی وہ حیثیت نمایاں کی جو ان کی ہے۔ پھر خود ہی جواب دیا کہ۔۔۔
لنک 78:1
2
عَنِ ٱلنَّبَإِ ٱلْعَظِيمِ
اس بڑی خبر کے متعلق.
لنک 78:2
3
ٱلَّذِى هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ
جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں.[1]
حواشی[1] یعنی جس بڑی خبر کی بابت ان کے درمیان اختلاف ہے، اس کے متعلق استفسار ہے۔ اس بڑی خبر سے بعض نے قرآن مجید مراد لیا ہے کافر اس کے بارے میں مختلف باتیں کرتے تھے، کوئی اسے جادو، کوئی کہانت، کوئی شعر اور کوئی پہلوں کی کہانیاں بتلاتا تھا۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد قیامت کا برپا ہونا اور دوبارہ زندہ ہونا ہے۔ اس میں بھی ان کے درمیان کچھ اختلاف تھا۔ کوئی بالکل انکار کرتا تھا کوئی صرف شک کا اظہار۔ بعض کہتے ہیں کہ سوال کرنے والےمومن وکافر دونوں ہی تھے، مومنین کا سوال تو اضافہ یقین اور ازدیاد بصیرت کے لئے تھا اور کافروں کا استہزا اور تمسخر کے طور پر۔
لنک 78:3
4
كَلَّا سَيَعْلَمُونَ
یقیناً یہ عنقریب جان لیں گے۔
لنک 78:4
5
ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ
پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا.[1]
حواشی[1] یہ ڈانٹ اور زجر ہےکہ عنقریب سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔ آگے اللہ تعالیٰ اپنی کاریگری اور عظیم قدرت کا تذکرہ فرما رہا ہے تاکہ توحید کی حقیقت ان کے سامنے واضح ہو اور اللہ کا رسول انہیں جس چیز کی دعوت دے رہا تھا، اس پر ایمان لانا ان کے لئے آسان ہو جائے۔
لنک 78:5
6
أَلَمْ نَجْعَلِ ٱلْأَرْضَ مِهَـٰدًۭا
کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا؟[1]
حواشی[1] یعنی فرش کی طرح تم زمین پر چلتے پھرتے، اٹھتے، بیٹھتے، سوتے اور سارے کام کاج کرتے ہو۔ زمین کوڈولتا ہوا نہیں رہنے دیا۔
لنک 78:6
7
وَٱلْجِبَالَ أَوْتَادًۭا
اور پہاڑوں کو میخیں (نہیں بنایا؟)[1]
حواشی[1] أَوْتَادٌ، وَتَدٌ کی جمع ہے میخیں۔ یعنی پہاڑوں کو زمین کے لئے میخیں بنایا تاکہ زمین ساکن رہے،حرکت نہ کرے، کیوں کہ حرکت واضطراب کی صورت میں زمین رہائش کے قابل ہی نہ ہوتی۔
لنک 78:7
8
وَخَلَقْنَـٰكُمْ أَزْوَٰجًۭا
اور ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا.[1]
حواشی[1] یعنی مذکر اور مونث۔ نراور مادہ یا ازواج بمعنی اصناف والوان ہے۔ یعنی مختلف شکلوں اور رنگوں میں پیدا کیا، خوب صورت، بدصورت، دراز قد، کوتاہ قد، سفید اور سیاہ وغیرہ۔
لنک 78:8
9
وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًۭا
اور ہم نے تمہاری نیند کو آرام کا سبب بنایا.[1]
حواشی[1] سُبَاتٌ کے معنی قطع کرنے کے ہیں۔ رات بھی انسان وحیوان کی ساری حرکتیں منقطع کر دیتی ہے تاکہ سکون ہو جائے اور لوگ آرام کی نیند سو لیں۔ یا مطلب ہے کہ رات تمہارے اعمال کاٹ دیتی ہے یعنی عمل کے سلسلے کو ختم کر دیتی ہے۔ عمل ختم ہونے کا مطلب آرام ہے۔
لنک 78:9
10
وَجَعَلْنَا ٱلَّيْلَ لِبَاسًۭا
اور رات کو ہم نے پرده بنایا.[1]
حواشی[1] یعنی رات کا اندھیرا اور سیاہی ہر چیز کو اپنے دامن میں چھپا لیتی ہے، جس طرح لباس انسان کے جسم کو چھپا لیتا ہے۔
لنک 78:10
11
وَجَعَلْنَا ٱلنَّهَارَ مَعَاشًۭا
اور دن کو ہم نے وقت روزگار بنایا.[1]
حواشی[1] مطلب ہے کہ دن کو روشن بنایا تاکہ لوگ کسب معاش کے لئے جد وجہد کر سکیں۔
لنک 78:11
12
وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًۭا شِدَادًۭا
اور تمہارے اوپر ہم نے سات مضبوط آسمان بنائے.[1]
حواشی[1] ان میں سے ہر ایک کا فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت جتنا ہے، جو اس کے استحکام اور مضبوطی کی دلیل ہے۔
لنک 78:12
13
وَجَعَلْنَا سِرَاجًۭا وَهَّاجًۭا
اور ایک روشن چراغ (سورج) بنایا.[1]
حواشی[1] اس سے مراد سورج ہے اور جَعَلَ بمعنی خَلَقَ ہے۔
لنک 78:13
14
وَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلْمُعْصِرَٰتِ مَآءًۭ ثَجَّاجًۭا
اور بدلیوں سے ہم نے بکثرت بہتا ہوا پانی برسایا.[1]
حواشی[1] مُعْصِرَاتٌ وہ بدلیاں جو پانی سے بھری ہوئی ہے لیکن ابھی برسی نہ ہوں۔ جیسے الْمَرْأَةُ الْمُعْتَصِرَةُ، اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری قریب ہو، ثَجَّاجًا کثرت سے بہنے والا پانی۔
لنک 78:14
15
لِّنُخْرِجَ بِهِۦ حَبًّۭا وَنَبَاتًۭا
تاکہ اس سے اناج اور سبزه اگائیں.[1]
حواشی[1] حَبٌّ ( دانا ) وہ اناج جسے خوراک کے لئے ذخیرہ کر لیا جاتا ہے، جیسے گندم، چاول، جو، مکئی وغیرہ اور نبات، سبزیاں اور چارہ وغیرہ جو جانور کھاتے ہیں۔
لنک 78:15
16
وَجَنَّـٰتٍ أَلْفَافًا
اور گھنے باغ (بھی اگائیں).[1]
حواشی[1] أَلْفَافًا شاخوں کی کثرت کی وجہ سے ایک دوسرے سے ملے ہوئے درخت یعنی گھنے باغ۔
لنک 78:16
17
إِنَّ يَوْمَ ٱلْفَصْلِ كَانَ مِيقَـٰتًۭا
بیشک فیصلہ کے دن کا وقت مقرر ہے.[1]
حواشی[1] یعنی اولین اور آخرین سب کے جمع ہونے اور وعدے کا دن۔ اسے فیصلے کا دن اس لئے کہا کہ اس دن جمع ہونے کا مقصد ہی تمام انسانوں کا ان کے اعمال کی روشنی میں فیصلہ کرنا ہے۔
لنک 78:17
18
يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًۭا
جس دن کہ صور میں پھونکا جائے گا۔ پھر تم فوج در فوج چلے آؤ گے.[1]
حواشی[1] بعض نے اس کا مفہوم یہ بھی بیان کیا ہے کہ ہر امت اپنے رسول کے ساتھ میدان محشر میں آئے گی۔ یہ دوسرا نفخہ ہوگا، جس میں سب لوگ قبروں سے زندہ اٹھ کر نکل آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سےپانی نازل فرمائے گا، جس سے انسان کھیتی کی طرح اگ آئے گا۔ انسان کی ہر چیز بوسیدہ ہو جائے گی، سوائے ریڑھ کی ہڈی کے آخری سرے کے۔ اسی سے قیامت والے دن تمام مخلوقات کی دوبارہ ترکیب ہوگی۔ ( صحیح بخاری، تفسیر سورۂ عم ) ۔
لنک 78:18
19
وَفُتِحَتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتْ أَبْوَٰبًۭا
اور آسمان کھول دیا جائے گا تو اس میں دروازے ہی دروازے ہو جائیں گے.[1]
حواشی[1] یعنی فرشتوں کے نزول کے لئے راستے بن جائیں گے اور وہ زمین پر اتر آئیں گے۔
لنک 78:19
20
وَسُيِّرَتِ ٱلْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا
اور پہاڑ چلائے جائیں گے پس وه سراب ہو جائیں گے.[1]
حواشی[1] سَرَابٌ، وہ ریت جو دور سے پانی محسوس ہوتی ہو۔ پہاڑ بھی سراب کی طرح صرف دور سے نظر آنے والی چیز بن کر رہ جائیں گے۔ اور اس کے بعد بالکل ہی معدوم ہو جائیں گے، ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ قرآن میں پہاڑوں کی مختلف حالتیں بیان کی گئی ہیں، جن میں جمع وتطبیق کی صورت یہ ہے کہ پہلے انہیں ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً ( الحاقة: 14 ) 2- وہ دھنی ہوئی روئی کی طرح ہو جائیں گے۔ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ ( القارعة: 5) 3- وہ گرد وغبار ہو جائیں گے۔ فَكَانَتْ هَبَاءً مُنْبَثًّا ( الواقعة :6)۔ 4- ان کو اڑا دیا جائے گا يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا (طه:105) اور پانچویں حالت یہ ہے کہ وہ سراب ہو جائیں گے۔ یعنی لا شَيْءَ جیسا کہ اس مقام پر ہے۔ ( فتح القدیر ) ۔
لنک 78:20
21
إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًۭا
بیشک دوزخ گھات میں ہے.[1]
حواشی[1] گھات ایسی جگہ کو کہتے ہیں، جہاں چھپ کر دشمن کا انتظار کیا جاتا ہے تاکہ وہاں سے گزرے تو فوراً اس پر حملہ کر دیا جائے۔ جہنم کے داروغے بھی جہنمیوں کے انتظار میں اسی طرح بیٹھے ہیں یا خود جہنم اللہ کے حکم سے کفار کے لئے گھات لگائے بیٹھی ہے۔
لنک 78:21
22
لِّلطَّـٰغِينَ مَـَٔابًۭا
سرکشوں کا ٹھکانہ وہی ہے.
لنک 78:22
23
لَّـٰبِثِينَ فِيهَآ أَحْقَابًۭا
اس میں وه مدتوں تک پڑے رہیں گے.[1]
حواشی[1] أَحْقَابٌ ، حُقُبٌ کی جمع ہے، بمعنی زمانہ۔ مراد ابد اور ہمیشگی ہے۔ ابد الاباد تک وہ جہنم میں ہی رہیں گے۔ یہ سزا کافروں اور مشرکوں کے لئے ہے۔
لنک 78:23
24
لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًۭا وَلَا شَرَابًا
نہ کبھی اس میں خنکی کا مزه چکھیں گے، نہ پانی کا.
لنک 78:24
25
إِلَّا حَمِيمًۭا وَغَسَّاقًۭا
سوائے گرم پانی اور (بہتی) پیپ کے.[1]
حواشی[1] جو جہنمیوں کے جسموں سے نکلے گی۔
لنک 78:25
26
جَزَآءًۭ وِفَاقًا
(ان کو) پورا پورا بدلہ ملے گا.[1]
حواشی[1] یعنی یہ سزا ان کے ان اعمال کےمطابق ہے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔
لنک 78:26
27
إِنَّهُمْ كَانُوا۟ لَا يَرْجُونَ حِسَابًۭا
انہیں تو حساب کی توقع ہی نہ تھی.[1]
حواشی[1] یہ پہلے جملے کی تعلیل ہے۔ یعنی وہ مذکورہ سزا کے اس لئے مستحق قرار پائے کہ عقیدۂ بعث بعدالموت کے وہ قائل ہی نہیں تھے کہ حساب کتاب کی وہ امید رکھتے۔
لنک 78:27
28
وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا كِذَّابًۭا
اور بے باکی سے ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے.
لنک 78:28
29
وَكُلَّ شَىْءٍ أَحْصَيْنَـٰهُ كِتَـٰبًۭا
ہم نے ہر ایک چیز کو لکھ کر شمار کر رکھا ہے.[1]
حواشی[1] یعنی لوح محفوظ میں۔ یا وہ ریکارڈ مراد ہے جو فرشتے لکھتے رہے۔ پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا وَكُلَّ شَيْءٍ أحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ ( يس:12) ۔
لنک 78:29
30
فَذُوقُوا۟ فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا
اب تم (اپنے کیے کا) مزه چکھو ہم تمہارا عذاب ہی بڑھاتے رہیں گے.[1]
حواشی[1] عذاب بڑھانے کا مطلب ہے کہ اب یہ عذاب دائمی ہے۔ جب ان کے چمڑے گل جائیں گے تو دوسرے بدل دیئے جائیں گے۔ ( النساء:56 ) جب آگ بجھنے لگے گی، تو پھر بھڑ کا دی جائے گی۔ بنی اسرائیل:97)۔
لنک 78:30
31
إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا
یقیناً پرہیزگار لوگوں کے لئے کامیابی ہے.[1]
حواشی[1] اہل شقاوت کےتذکرے کے بعد، یہ اہل سعادت کا تذکرہ اور ان نعمتوں کا بیان ہے جن سے حیات اخروی میں وہ بہرہ ور ہوں گے۔ یہ کامیابی اور نعمتیں انہیں تقویٰ کی بدولت حاصل ہوں گی۔ تقویٰ ، ایمان واطاعت کے تقاضوں کی تکمیل کا نام ہے، خوش قسمت ہیں وہ لوگ، جو ایمان لانے کے بعد تقویٰ اور عمل صالح کا اہتمام کرتے ہیں۔ جَعَلَنَا اللهُ مِنْهُمْ ۔
لنک 78:31
32
حَدَآئِقَ وَأَعْنَـٰبًۭا
باغات ہیں اور انگور ہیں.[1]
حواشی[1] یہ مفازاً سے بدل ہے ۔
لنک 78:32
33
وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًۭا
اور نوجوان کنواری ہم عمر عورتیں ہیں.[1]
حواشی[1] كَوَاعِبَ كَاعِبةٌ کی جمع ہے، یہ كَعْبٌ ( ٹخنہ ) سے ہے، جس طرح ٹخنہ ابھرا ہوا ہوتا ہے، ان کی چھاتیوں میں بھی ایسا ہی ابھار ہوگا، جو ان کے حسن وجمال کا ایک مظہر ہے۔ أَتْرَابٌ ہم عمر۔
لنک 78:33
34
وَكَأْسًۭا دِهَاقًۭا
اور چھلکتے ہوئے جام ہیں.[1]
حواشی[1] دِهَاقًا، بھرے ہوئے، یا لگاتار، ایک کے بعد ایک۔ یا صاف شفاف۔ كَأْسٌ، ایسے جام کو کہتے ہیں جو لبالب بھرا ہوا ہو۔
لنک 78:34
35
لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًۭا وَلَا كِذَّٰبًۭا
وہاں نہ تو وه بیہوده باتیں سنیں گے اور نہ جھوٹی باتیں سنیں گے.[1]
حواشی[1] یعنی کوئی بے فائدہ اور بے ہودہ بات وہاں نہیں ہوگی، نہ ایک دوسرے سے جھوٹ بولیں گے۔
لنک 78:35
36
جَزَآءًۭ مِّن رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًۭا
(ان کو) تیرے رب کی طرف سے (ان کے نیک اعمال کا)یہ بدلہ ملے گا جو کافی انعام ہوگا.[1]
حواشی[1] عَطَاءً کے ساتھ حِسَابٌ مبالغے کے لئے آتا ہے، یعنی اللہ کی داد ودہش کی وہاں فراوانی ہوگی۔
لنک 78:36
37
رَّبِّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ٱلرَّحْمَـٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًۭا
(اس رب کی طرف سے ملے گا جو کہ) آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا پروردگار ہے اور بڑی بخشش کرنے واﻻ ہے۔ کسی کو اس سے بات چیت کرنے کا اختیار نہیں ہوگا.[1]
حواشی[1] یعنی اس کی عظمت، ہیبت اور جلالت اتنی ہوگی کہ ابتداءً اس سےکسی کو بات کرنے کی ہمت نہ ہوگی، اسی لئے اس کی اجازت کے بغیر کوئی شفاعت کے لئے بھی لب کشائی نہیں کر سکے گا۔
لنک 78:37
38
يَوْمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ صَفًّۭا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًۭا
جس دن روح اور فرشتے صفیں باندھ کر کھڑے ہوں گے[1] تو کوئی کلام نہ کر سکے گا مگر جسے رحمٰن اجازت دے دے اور وه ٹھیک بات زبان سے نکالے.[2]
حواشی[1] یہاں جبرائیل (عليه السلام) سمیت رُوحٌ کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں، امام ابن کثیر نے بنو آدم ( انسان ) کو اشبہ ( قرین قیاس ) قرار دیا ہے۔ [2] یہ اجازت اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کو اور اپنے پیغمبروں کو عطا فرمائے گا اور وہ جو بات کریں گی حق وصواب ہی ہوگی، یا یہ مفہوم ہے کہ، اجازت صرف اسی کےبارے میں دی جائے گی جس نے درست بات کہی ہو۔ یعنی کلمہ توحید کا اقراری رہا ہو۔
لنک 78:38
39
ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ مَـَٔابًا
یہ دن حق ہے[1] اب جو چاہے اپنے رب کے پاس (نیک اعمال کر کے) ٹھکانا بنالے.[2]
حواشی[1] یعنی لا محالہ آنے والا ہے۔ [2] یعنی اس آنے والے دن کو سامنےرکھتے ہوئے ایمان وتقویٰ کی زندگی اختیار کرے تاکہ اس روز وہاں اس کو اچھا ٹھکانہ مل جائے۔
لنک 78:39
40
إِنَّآ أَنذَرْنَـٰكُمْ عَذَابًۭا قَرِيبًۭا يَوْمَ يَنظُرُ ٱلْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلْكَافِرُ يَـٰلَيْتَنِى كُنتُ تُرَٰبًۢا
ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا (اور چوکنا کر دیا) ہے[1] ۔ جس دن انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی کو دیکھ لے گا[2] اور کافر کہے گا کہ کاش! میں مٹی ہو جاتا.[3]
حواشی[1] یعنی قیامت والے دن کے عذاب سے جو قریب ہی ہے۔ کیوں کہ اس کا آنا یقینی ہے اور ہر آنے والے چیز قریب ہی ہے، کیونکہ بہر صورت اسے آکر ہی رہنا ہے۔ [2] یعنی اچھا یا برا، جو عمل بھی اس نے دنیا میں کیا وہ اللہ کے ہاں پہنچ گیا ہے، قیامت والے دن وہ اس کے سامنے آجائے گا اور اس کا مشاہدہ کر لے گا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا (الكهف ،49) يُنَبَّأُ الإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ ( القيامة ،13) ۔ [3] یعنی جب وہ اپنے لئے ہولناک عذاب دیکھے گا تو یہ آرزو کرے گا۔ بعض کہتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ حیوانات کے درمیان بھی عدل وانصاف کے مطابق فیصلہ فرمائے گا، حتیٰ کہ ایک سینگ والی بکری نے بے سینگ کے جانور پر کوئی زیادتی کی ہوگی، تو اس کا بھی بدلہ دلائے گا اس سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ جانوروں کو حکم دے گا کہ مٹی ہو جاو۔ چنانچہ وہ مٹی ہو جائیں گے۔ اس وقت کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی حیوان ہوتے اور آج مٹی بن جاتے۔ ( تفسیر ابن کثیر ) ۔
لنک 78:40

Niyat ایپ میں روزانہ قرآن پڑھیں اور سنیں، ساتھ میں نماز کے اوقات، قبلہ اور وہیں سے آغاز جہاں آپ نے چھوڑا تھا۔

Niyat مفت حاصل کریں