114 میں سے سورت 93 · مکی

سورہ الضحی (چاشت)

سُورَةُ الضُّحَىٰ
11 آیات

معانی کا ترجمہ: Muhammad Junagarhi، QuranEnc.com، ورژن 1.1.3۔ ترجمہ قرآن کے معانی بیان کرتا ہے۔ قرآن بذاتِ خود عربی متن ہے۔

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1
وَٱلضُّحَىٰ
قسم ہے چاشت کے وقت کی.[1]
حواشی[1] چاشت ( ضُحًى) اس وقت کو کہتے ہیں، جب سورج بلند ہوتا ہے۔ یہاں مراد پورا دن ہے۔
لنک 93:1
2
وَٱلَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ
اور قسم ہے رات کی جب چھا جائے.[1]
حواشی[1] سَجَى کے معنی ہیں سکن، جب ساکن ہو جائے۔ یعنی جب اندھیرا مکمل چھا جائے، کیونکہ اس وقت ہر چیز ساکن ہو جاتی ہے۔
لنک 93:2
3
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ
نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وه بیزار ہو گیا ہے.[1]
حواشی[1] جیسا کہ کافر سمجھ رہے ہیں۔
لنک 93:3
4
وَلَلْـَٔاخِرَةُ خَيْرٌۭ لَّكَ مِنَ ٱلْأُولَىٰ
یقیناً تیرے لئے انجام آغاز سے بہتر ہوگا.[1]
حواشی[1] یا آخرت دنیا سے بہتر ہے۔ دونوں مفہوم معانی کے اعتبار سے صحیح ہیں۔
لنک 93:4
5
وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰٓ
تجھے تیرا رب بہت جلد (انعام) دے گا اور تو راضی (وخوش) ہو جائے گا.[1]
حواشی[1] اس سے دنیا کی فتوحات اور آخرت کا اجر وثواب مراد ہے۔ اس میں وہ حق شفاعت بھی داخل ہے جو آپ (صلى الله عليه وسلم) کو اپنی امت کے گناہ گاروں کے لئے ملے گا۔
لنک 93:5
6
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًۭا فَـَٔاوَىٰ
کیا اس نے تجھے یتیم پا کر جگہ نہیں دی.[1]
حواشی[1] یعنی باپ کے سہارے سے بھی تو محروم تھا، ہم نے تیری دست گیری اور چارہ سازی کی۔
لنک 93:6
7
وَوَجَدَكَ ضَآلًّۭا فَهَدَىٰ
اور تجھے راه بھوﻻ پا کر ہدایت نہیں دی.[1]
حواشی[1] یعنی تجھے دین شریعت اور ایمان کا پتہ نہیں تھا، ہم نے تجھے راہ یاب کیا، نبوت سے نوازا اور کتاب نازل کی، ورنہ اس سے قبل تو ہدایت کے لئے سرگرداں تھا۔
لنک 93:7
8
وَوَجَدَكَ عَآئِلًۭا فَأَغْنَىٰ
اور تجھے نادار پاکر تونگر نہیں بنا دیا؟[1]
حواشی[1] تونگر کا مطلب ہے، اپنے سوا تجھ کو ہر ایک سے بےنیاز کر دیا، پس تو فقر میں صابر اور غنا میں شاکر رہا۔ جیسے خود نبی (صلى الله عليه وسلم) کا بھی فرمان ہے کہ تونگری، ساز وسامان کی کثرت کا نام نہیں ہے، اصل تونگری دل کی تونگری ہے۔ ( صحيح مسلم، كتاب الزكاة، باب ليس الغنى عن كثرة العرض ) ۔
لنک 93:8
9
فَأَمَّا ٱلْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ
پس یتیم پر تو بھی سختی نہ کیا کر.[1]
حواشی[1] بلکہ اس کے ساتھ نرمی واحسان کا معاملہ کر۔
لنک 93:9
10
وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْ
اور نہ سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ.[1]
حواشی[1] یعنی اس سے سختی اور تکبر نہ کر، اور نہ درشت اور تلخ لہجہ اختیار کر۔ بلکہ جواب بھی دینا ہو تو پیار اور محبت سے دو۔
لنک 93:10
11
وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ
اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا ره.[1]
حواشی[1] یعنی اللہ نے تجھ پر جو احسانات کئے ہیں، مثلاً ہدایت اور رسالت ونبوت سے نوازا، یتیمی کے باوجود تیری کفالت وسرپرستی کا انتظام کیا۔ تجھے قناعت وتونگری عطا کی وغیرہ۔ انہیں جذبات تشکر وممنونیت کے ساتھ بیان کرتا رہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے انعامات کا تذکرہ اور ان کا اظہار اللہ کو پسند ہے لیکن تکبر اور فخر کے طور پر نہیں بلکہ اللہ کے فضل وکرم اور اس کے احسان سے زیر بار ہوتے ہوئے اور اس کی قدرت وطاقت سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ ہمیں ان نعمتوں سے محروم نہ کر دے۔
لنک 93:11

Niyat ایپ میں روزانہ قرآن پڑھیں اور سنیں، ساتھ میں نماز کے اوقات، قبلہ اور وہیں سے آغاز جہاں آپ نے چھوڑا تھا۔

Niyat مفت حاصل کریں